ہارٹ اٹیک و فالج سمیت امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والی اہم وجہ دریافت؛ ماہرین نے خبردار کردیا

A major cause increasing the risk of heart attack, stroke, and other cardiovascular diseases has been discovered; experts have issued a warning
دنیا بھر میں دل کی بیماریاں اموات کی بڑی وجہ سمجھی جاتی ہیں۔ ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور دل کے مختلف مسائل کو مجموعی طور پر امراضِ قلب کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ بیماریاں زیادہ تر بڑھاپے میں ہوتی ہیں، مگر اب صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے۔
حالیہ سالوں میں نوجوان افراد میں بھی دل کے امراض میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، زیادہ کولیسٹرول، تمباکو نوشی اور غیر صحت مند طرزِ زندگی شامل ہیں۔ اب ایک نئی تحقیق میں ایک اور اہم وجہ سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی طبی جریدے “نیچر میٹابولزم” میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق زیادہ مقدار میں پروٹین کا استعمال بھی دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ پروٹین اگرچہ جسم کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ مسلز بنانے اور بھوک کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پروٹین میں موجود ایک خاص امینو ایسڈ “لیوسین” (Leucine) دل کی بیماریوں کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ امینو ایسڈ جسم میں ایسے عمل کو متحرک کرتا ہے جو شریانوں میں چکنائی اور کولیسٹرول کے جمع ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔
چوہوں پر کیے گئے تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ پروٹین والی خوراک سے جسم میں امینو ایسڈز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بعد مدافعتی خلیے انہیں جذب کر لیتے ہیں، جس سے وہ عمل شروع ہوتا ہے جو دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ انسانی جسم میں بھی اسی طرح کے اثرات دیکھے گئے ہیں۔
محققین کے مطابق اگر روزانہ کی کیلوریز میں تقریباً 22 فیصد حصہ پروٹین پر مشتمل ہو تو مدافعتی نظام زیادہ فعال ہو سکتا ہے، جو طویل مدت میں دل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمام پروٹین ایک جیسے نہیں ہوتے۔ حیوانی ذرائع جیسے چکن اور گائے کے گوشت میں لیوسین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ دیگر ذرائع میں یہ کم ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ متوازن غذا اپنانا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی غذائی چیز کا حد سے زیادہ استعمال نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ پروٹین کا استعمال بھی مناسب مقدار میں کرنا چاہیے۔
تحقیق کرنے والے ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی مزید طویل المدتی مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ پروٹین اور دل کی بیماریوں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












