منگل، 18-اگست،2026
منگل 1448/03/05هـ (18-08-2026م)

گردوں کی خرابی کی 7 علامات جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے

18 اگست, 2026 10:45

گردے ہمارے جسم کے اہم اعضا میں شامل ہیں۔ یہ خون سے فاضل مادے اور اضافی پانی خارج کرنے کے ساتھ جسم میں نمکیات اور دیگر ضروری اجزا کا توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

گردوں کی بیماری اکثر آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور ابتدائی مراحل میں اس کی کوئی واضح علامت سامنے نہیں آتی۔ اسی لیے بعض افراد کو بیماری کا علم اس وقت ہوتا ہے جب گردوں کی کارکردگی کافی متاثر ہوچکی ہوتی ہے۔

تاہم کچھ علامات ایسی ہیں جنہیں مسلسل ظاہر ہونے کی صورت میں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

1۔ پیشاب میں تبدیلی

پیشاب معمول سے زیادہ یا کم آنا، بار بار پیشاب کی حاجت ہونا یا پیشاب میں جھاگ آنا گردوں کے مسئلے کی علامت ہوسکتا ہے۔ پیشاب میں خون آنا بھی ایسی علامت ہے جس کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

2۔ مسلسل تھکن اور کمزوری

گردوں کی بیماری بڑھنے پر تھکن، کمزوری، بھوک میں کمی اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہوسکتی ہے۔ گردوں کی دائمی بیماری میں خون کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے، جس سے کمزوری اور سانس پھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔

3۔ ہاتھ، پاؤں یا چہرے پر سوجن

اگر گردے جسم سے اضافی پانی اور نمکیات مناسب طریقے سے خارج نہ کرسکیں تو جسم میں پانی جمع ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹانگوں، پیروں، ٹخنوں اور بعض اوقات ہاتھوں یا چہرے پر سوجن نظر آ سکتی ہے۔

4۔ کمر یا پہلو میں درد

کمر یا جسم کے ایک جانب درد بعض گردوں کے مسائل میں ہوسکتا ہے، تاہم ہر کمر کا درد گردوں کی بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔ شدید، اچانک یا مسلسل درد کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہے۔

5۔ جلد میں خشکی اور خارش

گردوں کی کارکردگی بہت متاثر ہونے پر خون میں بعض فاضل مادے اور معدنیات جمع ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جلد خشک ہونے اور خارش کی شکایت ہوسکتی ہے۔

6۔ متلی، بھوک میں کمی یا وزن کم ہونا

گردوں کی بیماری بڑھنے پر متلی، قے، بھوک میں کمی اور وزن کم ہونے جیسی علامات بھی سامنے آسکتی ہیں۔ بعض افراد کو کھانے کا ذائقہ تبدیل ہونے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

7۔ سانس پھولنا

گردوں کی شدید خرابی میں جسم میں اضافی پانی جمع ہونے یا خون کی کمی کے باعث سانس پھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ اگر سانس لینے میں واضح دشواری ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

گردوں کی بیماری سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور نمک کے زیادہ استعمال سے گریز مفید ہے۔ اس کے علاوہ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کو قابو میں رکھنا بھی گردوں کی حفاظت کے لیے اہم ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ صرف علامات کی بنیاد پر گردوں کی بیماری کی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔ ابتدائی گردوں کی بیماری میں اکثر کوئی علامت نہیں ہوتی، اس لیے خطرے کا شکار افراد کے لیے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ اہم ہیں۔

اگر پیشاب میں خون، مسلسل سوجن، غیر معمولی کمزوری یا سانس پھولنے جیسی علامات موجود ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔