سیاست میں مذہب کارڈ کا استعمال کتنا خطرناک؟

سیاست میں مذہب کا استعمال پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے، ایک ایسا لازم جز جس نے المیہ جنم دیا ہے۔ متعدد سیاسی جماعتیں مذہب میں سیاست کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے بھی اس ہتھیار کو بھرپور طریقے سے چلاتی رہی ہیں۔ یہ پہلا الیکشن نہیں اور آخری بھی نہیں جس میں مذہب کو بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، اگرچہ توہین مذہب قوانین کیساتھ یہ عمل انتہائی مہلک ہو چکا ہے۔
عارفہ نور ڈان اخبار میں شائع ہونیوالے مضمون میں لکھتی ہیں، مسلم لیگ ن نے سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں ایک باریش نوجوان سیاست میں مذھب کے استعمال کی مذمت کرتا نظر آتا ہے، مگر اس وڈیو میں استعمال کی جانیوالی فوٹیج اس تبصرے کے مکمل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ فوٹیج میں سابق وزیراعظم عمران خان کو اپنی حلف برداری کے دوران زبانی ٹھوکریں کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ساتھ ہی موجودہ اہلیہ کیساتھ نکاح کے حوالے سے عدالتی مقدمے کی فوٹیج بےی دکھائی گئی ہے۔ گویا ایک تیر سے دو شکار، سیاست میں مذھب کے استعمال کی مذمت اور سیاست میں مذھب کا سفاکانہ استعمال۔ آپ جانتے ہیں اسکے بعد سوشل میڈیا بحث اور نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے حلف کیساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزامات کا بھی تذکرہ کیا گیا۔
آپ کو یاد ہو گا یہ وہ الزامات تھے جن پر مسلم لیگ ن کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑا تھا، ذلت آمیز بیانات، حتی کے سینئر رہنما احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی نے اس واقعے کو بڑھاوا بھی دیا تھا۔ اس تناظر میں مسلم لیگ ن کی جانب سے عمران خان پر بالواسطہ مذھبی کارڈ استعمال کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں، اسلئے نہیں کہ پی ٹی آئی مخالف جماعت ہے بلکہ یہ پاکستان کی سیاست میں ایک مستقل مشق کے طور پر استعمال کیا جانیوالے ہتھیار بن چکا ہے۔
مذہب کو ریاست نے بھی قانونی حیثیت اور اختلاف رائے کمزور کرنے یا اپنے لیے کسی چیلنج سے نمٹنے کیلئے استعمال کیا۔ مشرقی پاکستان کی صورتحال کو یاد رکھیں، عدم اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ وہ کافی مسلمان نہیں اسلئے بہتر پاکستانی بھی نہیں ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور، جب انہوں نے طلباء اور ورکرز یونینز کی مدد سے حاصل ہونیوالی اپنی بائیں بازو کی بنیادی حمایت کو ختم کر دیا تھا، بالاخر دائیں بازو کی مخالفت کے خلاف خود کو مضبوط کرنے کیلئے انہیں مذہب کارڈ کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ شراب پر پابندی، ہفتہ وار تعطیل جمعے کو، اس وقت انکی حکمرانی کو خطرہ لاحق تھا۔ ہاں یہ بھی اہم ہے کہ اس وقت کی فوجی حکومت کس طرح پھانسی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے مسلمان نہ ہونے کے ’ثبوت‘ کتنی شد و مد کیساتھ تلاش کر رہی تھی۔
جنرل ضیاءالحق کے دور میں اسلامائزیشن نے اس مذھب کارڈ کو اس حد تک تیز کر دیا کہ اس کے بعد بہت کم لوگ مذہبی جواز سے بچنے میں ناکام رہے۔ اگرچہ سیاست میں مذھبی کارڈ پہلے سے موجود تھا بالخصوص انتخابی مہم کے دوران، مگر ضیاالحق دور کے دوران جس تیزی سے پھیلا وہ ناقابل یقین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ای سی پی تسلیم کرتا ہے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے مگر سپریم کورٹ کہتا ہے نہیں ہوئے
یہ نہ بھولیں کہ جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو انتخابات سے دور رکھنے کیلئے کس طرح خواتین کی حکمرانی کے خلاف فتوے حاصل کیے تھے، یہی خاص اصول 1988 میں بینظیر بھٹو کیلئے بھی مذھبی کارڈ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو پر اچھی مسلم خواتین نہ ہونے کے بھی الزامات تاریخ کا حصہ ہیں، دونوں کی جعلی تصاویر کس طرح پھیلائی گئی تھیں، اب بھی سب کو یاد ہے۔
پھر جنرل پرویز مشرف کی ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کے باوجود، مذہب کارڈ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ایک زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا۔ ہو سکتا ہے کہ مشرف نے مغرب کو ایک مختلف پاکستان پیش کیا ہو، لیکن صدر کے طور پر ان کے دور میں ہونے والے ایک الیکشن نے خیبر پختونخوا میں جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کی قیادت میں ایم ایم اے کو اقتدار میں لایا گیا۔ اس سیاسی اتحاد نے اپنی کتاب کی علامت کو بڑی کامیابی کیساتھ مذھب سے جوڑا۔
2008 میں، جب محترمہ بھٹو کی شہادت کے بعد بالآخر انتخابات ہوئے، لال مسجد اور آپریشن کے نتیجے میں لوگوں کی ہلاکتیں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنی انتخابی مہم میں مذہب اور پرویز مشرف کے خلاف غصے کا فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک جذباتی مسئلہ تھا۔ اگلے پانچ سال تشدد اور دہشت گردی کی نذر ہو گئے لیکن ایک بار جب خطرے پر قابو پایا گیا تو مذہب ایک بار پھر انتخابات میں استعمال ہونے کا آلہ بن گیا۔
2018 تک، PTI آرام سے توہین رسالت کے قانون کا دفاع کر رہی تھی اور اپنے حریف مسلم لیگ ن کو ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش کر رہی تھی جس نے حلف میں تبدیلی کیساتھ مختلف دفعات کے ذریعے مذھب کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ مسلم لیگ ن کو توہین مذھب کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی تمام کوششیں کی گئیں، وفاقی وزیر قانون کو استعفیٰ بھی دینا پڑا اور بالاخر یہ معاملہ انتخابات پر اثر انداز ہوا۔
اب اسکے برعکس منظر نامہ ہے، مسلم لیگ ن عمران خان اور انکی جماعت پر توہین رسالت اور اسرائیلی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا رہی ہے۔ خانہ کعبہ کی تصویر سے مزین گھڑی کو بیچنا اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذھبی گناہوں کی فہرست طویل ہے، اگرچہ ان میں سے کچھ انتخابی نعرے بھی شامل ہیں۔ یہ آخری الیکشن نہیں ہے جس میں مذہب کو استعمال کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی جماعت اس فتنے سے برات کا دعوی کر سکتی ہے۔ انتخابی ایشو کے طور پر توہین مذہب کے اضافے کے ساتھ، مذہب کا استعمال مزید مہلک ہو گیا ہے۔ یہ ایسا رجحان نہیں ہے جو جلد ہی کسی بھی وقت ختم ہو سکے۔ لیکن اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے معاشرے میں بڑھتی ہوئی قدامت پسندی، سلمان تاثیر کے قتل کے بعد توہین رسالت کے معاملے کو ہتھیار بنانا اور ٹی ایل پی کے ابھرنے کے بعد، سیاسی جماعتیں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی کال کی مزاحمت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پنجاب میں قانون سازی سے زیادہ یہ کہیں اور واضح نہیں ہے۔
پنجاب میں سیاسی تقسیم ’پولیٹیکل پولرائزیشن )اور دونوں جماعتوں، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے نفرت انگیز تعلقات کے باوجود، مذہبی پہلو والے قوانین اور قراردادوں نے دو طرفہ منظوری حاصل کی۔ اس قانون پر غور کریں کہ پنجاب میں نصابی کتب کی جانچ پڑتال کے لیے علماء بورڈ کو اسلام کے خلاف مواد کی جانچ پڑتال کی جائے یا اس قرارداد پر غور کیا جائے جس میں کہا گیا ہو کہ نکاح نامہ میں خاتم النبیین کے حلف کو شامل کیا جائے۔ دونوں نکات کو دونوں جماعتوں کی حمایت سے منظور کیا گیا تھا، جو ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کبھی کبھی وہی جماعتیں ترقی پسند قانون سازی کی حمایت کے لیے قومی سطح پر اکٹھی ہوتی ہیں۔ یہاں بات قابل فکر ہے کہ یہ بہت سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ لیکن صوبائی سطح پر، پارٹیوں اور ان کے اراکین کو دائیں بازو کی کالوں کے خلاف مزاحمت کرنا مشکل لگتا ہے، جس کی ایک وجہ یہ تاثر ہے کہ یہ ہتھیار ووٹرز کو اپیل کرتا ہے اور ایک حد تک ٹی ایل پی جیسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے دیگر جماعتوں کو بھی اس طرح توجہ دینی پڑ رہی ہے۔
اس کے برخلاف سندھ میں بھی پیپلز پارٹی حکومت دائیں بازو کے دباؤ کے سامنے کھڑی ہو گئی اور جبری تبدیلی کے بل سے پیچھے ہٹ گئی، حالانکہ صوبے نے عام طور پر ترقی پسند قانون سازی کی ہے جیسا کہ کم عمری کی شادی کو روکنے کے قانون میں عمر کی حد وغیرہ
انتخابات کے دوران اپنے حریف پر قرون وسطیٰ کے ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی خواہش اور دائیں بازو کے دبائو کے خلاف مزاحمت، دونوں سیاسی رحجانات میں مستقبل قریب تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
Catch all the پاکستان News, تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










