مصطفیٰ کو زندہ جلانے سے قبل بھاگنے کا موقع دیا، ملزم ارمغان کے لرزہ خیز انکشافات

مصطفیٰ کو زندہ جلانے سے قبل بھاگنے کا موقع دیا، ملزم ارمغان کے انکشافات
کراچی کے نوجوان مصطفیٰ کے اغوا اور قتل کیس میں دوران تفتیش ملزم ارمغان قریشی نے تحلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔
حکام کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر تحقیقاتی ٹیم نے خیابان مومن میں واقع ملزم ارمغان قریشی کے بنگلے پر چھاپہ مارا اور جس راڈ سے مصطفیٰ کو تشدد کا بنایا وہ ڈنڈا گارڈ روم سے برآمد کرلیا۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے مصطفیٰ کو دو گھنٹے تک لوہے کی راڈ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے دوران مصطفیٰ کے سر اور گھٹنوں سے خون بہنے لگا تھا۔
دوران تفتیش ملزم ارمغان نے کہا کہ مصطفی سے لڑائی نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوئی تھی، وہ میرا کال سینٹر کا سیٹ اپ کاپی کرنا چاہتا تھا۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ارمغان کال سینٹر سے قبل کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کرتا تھا، ملازمت کے بعد ملزم نے ویڈ کی فروخت اور سپلائی شروع کردی، ملزم کے دوستوں کا تمام سرکل ہی ویڈ سپلائی سے منسلک تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
مصطفیٰ قتل کیس؛ عدالت نے ملزم ارمغان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا
مصطفیٰ عامر قتل کیس؛ ملزم سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات
ملزم نے تفتیشی ٹیم کو مزید بتایا کہ 6 فروری کو اس نے شیراز کو اپنے بنگلے پر بلایا اور کچھ دیر بعد مصطفیٰ کو بھی وہاں بلا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
ملزم ارمغان کا کہنا تھا کہ تشدد کے وقت وہ نشے کی حالت میں تھا، جبکہ مصطفیٰ کے شدید زخمی ہونے پر شیراز نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
ملزم نے بتایا کہ مصطفیٰ کو تشدد کے بعد شیراز کی مدد سے اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، حب پہنچ کر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ اس وقت زندہ تھا اور بعد ازاں گاڑی کی ڈگی کھول کر مقتول پر پیٹرول چھڑکا اور اس سے کہا کہ اگر ہمت ہے تو بھاگ جا۔
ملزم کے مطابق مصطفیٰ نے حرکت کرنے کی کوشش کی مگر گھٹنوں پر گہری چوٹ کی وجہ سے وہ ہل نہ سکا، آگ لگانے کے بعد وہ اور شیراز حب سے پیدل نکلے اور مختلف گاڑیوں سے لفٹ لے کر کراچی پہنچے۔
پولیس حکام جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ارمغان کو ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو کل (جمعہ) کو ختم ہو رہا ہے۔
پولیس اور تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ارمغان کی ماہانہ آمدنی کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس کو چھاپے کے دوران بنگلے کے اندر قائم ایک کال سینٹر، متعدد لیپ ٹاپ، سیکیورٹی کیمرے، موشن ڈیٹیکٹرز، واک تھرو گیٹ اور غیر قانونی اسلحہ ملا تھا۔
ملزم ارمغان کے پاس 40 سے زیادہ سیکورٹی گارڈ رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مرکزی ملزم امریکا میں لوگوں کو گھریلو خدمات فراہم کرنے کے بہانے دھوکہ دہی کے ذریعے ان کے پیسے چوری کرنے کے لئے ایک کال سینٹر چلا رہا تھا۔
تاہم، کال سینٹر کے ذریعے وہ کتنی لاکھوں روپے یا اس سے زیادہ رقم کماتا ہے اس کا تعین نہیں ہوسکا۔
تفتیش میں مزید انکشاف ہوا کہ ارمغان پر پہلے ہی کم از کم چھ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں تشدد اور انسداد دہشت گردی ایکٹ شامل ہیں۔
اعتراف جرم اور غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے بعد ملزم کے خلاف نئے مقدمات درج کیے جائیں گے۔
یہ معاملہ بی بی اے کے ایک طالب علم مصطفیٰ کے مبینہ اغوا اور قتل سے جڑا ہوا ہے، جو گزشتہ ماہ لاپتہ ہوا تھا۔
تاہم یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب مرکزی ملزم نے رواں ماہ کے اوائل میں ڈی ایچ اے میں اپنی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران کراچی پولیس کے خصوصی یونٹ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) کی ٹیم پر فائرنگ کی۔
ارمغان کے علاوہ پولیس نے شیراز کو بھی گرفتار کر کے اس کا بیان ریکارڈ کیا ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ارمغان کے لیے کام کرتا تھا اور مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی اور لاش کو ٹھکانے لگانے میں ملوث تھا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












