ام رباب چانڈیو کیس: ملزمان کی بریت پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ، صحافیوں پر مقدمات

دادو میں ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ کے قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے فیصلے کے بعد نہ صرف عوامی حلقوں میں بے چینی پھیلی ہے بلکہ صحافیوں کے خلاف پولیس کارروائیوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
سندھ کے ضلع دادو میں ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے فیصلے کے بعد ضلع بھر میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
عدالتی فیصلے پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، تاہم اس وقت صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی، جب یہ انکشاف ہوا کہ واقعے کے حقائق بیان کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے سچائی سامنے لانے والے متعدد صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں، جس کی وجہ سے ضلع بھر کے صحافیوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ کے مشہور ترین ام رباب چانڈیو کیس کے تمام ملزمان عدم شواہد کی بنیاد پر بری
اس صورتحال پر صحافتی تنظیمیں میدان میں آ گئی ہیں اور انہوں نے پولیس گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے آزادی صحافت کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ام رباب چانڈیو نے بھی کھل کر اپنا مؤقف بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ سچ لکھنے اور بولنے والوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ انصاف کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
سول سوسائٹی اور وکلا برادری نے بھی اس کارروائی کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
شہر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سیاسی و سماجی حلقے متحرک ہو گئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صحافیوں کے خلاف کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو احتجاج کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









