بلوچستان میں اساتذہ اور ڈاکٹروں کی غیر حاضری کی شکایات میں ریکارڈ کمی کا دعویٰ

صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں بہتر مانیٹرنگ کی وجہ سے اسکولوں میں اساتذہ اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غیر حاضری کی شکایات ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غیر حاضری سے متعلق عوامی شکایات تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔
گزشتہ نو ماہ کے دوران صوبے کے چھتیس اضلاع میں چار سو بارہ کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ کو تین ہزار چھ سو پچھتر شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق سرکاری ملازمین کی غیر حاضری سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان عوامی پارٹی کی کسی دوسری جماعت میں انضمام کی سختی سے تردید
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ رواں سال مارچ کے مہینے میں موصول ہونے والی آٹھ سو اکہتر شکایات میں سے صرف چار شکایات غیر حاضری سے متعلق تھیں، جس کا مطلب ہے کہ غیر حاضری کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو مؤثر مانیٹرنگ اور بروقت انتظامی کارروائی کا نتیجہ قرار دیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اب بلوچستان کا ہر اسکول اور اسپتال فعال ہے، جہاں اساتذہ اور ڈاکٹرز اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔ غیر حاضری کے مسائل حل ہونے کے بعد اب عوام کھلی کچہریوں میں سروس ڈلیوری کے دیگر پہلوؤں پر توجہ دے رہے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ضلعی انتظامی سربراہان کے فعال کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ سیکریٹریز کمیٹی اور ڈویژنل سطح پر ہونے والے مسلسل اجلاسوں نے گڈ گورننس کے اہداف حاصل کرنے میں بڑی مدد دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب صوبے میں شفافیت کو مزید مضبوط بنا رہی ہے تاکہ عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









