سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہمارا دو رکنی بینچ ہی کافی ہے، آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف بڑا بینچ بنانا ضروری نہیں اور ہمارا دو رکنی بنچ ہی کافی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے پی ٹی سی ایل ملازمین اور پنشنرز کے کیسز کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت پی ٹی سی ایل ملازمین کی طرف سے سابق جج شوکت عزیز صدیقی بطور وکیل پیش ہوئے اور انہوں نے نکتہ اٹھایا کہ پہلے اس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دیا تھا جبکہ اب وفاقی آئینی عدالت کا یہ دو رکنی بینچ اس کیس کو سن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 2022 کا ایکٹ کالعدم، وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی کی کوشش دوبارہ جرم قرار دے دی
اس پر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ اس حوالے سے ہمارے متعدد فیصلے پہلے سے موجود ہیں، اس لیے آپ بے فکر رہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف بڑا بینچ بنانا ضروری نہیں اور ہمارا یہ 2 رکنی بینچ ہی کیس سننے کے لیے کافی ہے۔
بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی سی ایل ملازمین کے تمام مختلف کیسز کو ایک ساتھ یکجا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










