ایف آئی اے کی تحقیقات سے پیٹرولیم سیکٹر میں ہلچل، اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرنشل کلیم کی مد میں 70 ارب روپے کی ادائیگیاں روک دی

اسلام آباد: ایف آئی کی جانب سے گوآئل مارکیٹنگ کمپنی کے خلاف شروع ہونیوالی انکوائری نے پورے سیکٹر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تحقیقات کے دباؤ اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو تقریباً 70 ارب روپے کی مزید ادائیگیاں روک دی ہیں جس سے نہ صرف پیٹرولیم مارکیٹ میں بے چینی پھیل گئی ہے بلکہ حکومت کے سبسڈی اور قیمتوں کے تعین کے نظام پر بھی بڑے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
وزارتِ توانائی نے 14 مارچ 2026 کو اپنے خط کے ذریعے اوگرا کو ہدایت کی تھی کہ پاکستان کے وزیر اعظم کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرنشل کلیم کی ادائیگی کا طریقہ کار مرتب کیا جائے۔وزیر اعظم کے فیصلے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) اور موٹر اسپرٹ (MS/پیٹرول) کی قیمتیں برقرار رکھی جائیں گی جبکہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 75 روپے 05 پیسے فی لیٹر اور پیٹرول پر 49 روپے 63 پیسے فی لیٹر کے حساب سے پرائس ڈیفرنشل ادا کرے گی۔
دوسری جانب پرائس ڈیفرنشل کلیمز کے معاملے پر ایف آئی اے کی عبوری رپورٹ اور بعد ازاں ادارے کے ساتھ ہونے والی مشاورت بنیادی طور پر ادائیگیوں کے طریقہ کار کے گرد گھومتی ہے۔ موجودہ طریقہ کار کے تحت پرائس ڈیفرنشل کلیمز کی ادائیگی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، تاہم ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ ادائیگیاں فروخت کے بجائے خریداری کے حجم کی بنیاد پر کی جانی چاہئیں۔اگر تحقیقات میں یہ مؤقف درست ثابت ہوتا ہے تو اربوں روپے کی ادائیگیوں کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین ایک بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ اوگرا اپنے میکنزم کے تحت 50ارب روپے پہلے ہی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ادا کرچکا ہے۔
معاملے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اوگرا کے ممبر آئل زین العابدین قریشی پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں جبکہ ادارے کے متعدد افسران ایف آئی اے کی تحقیقات کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔
تاہم اوگرا نے اپنے دفاع میں وفاقی حکومت اور وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب انگلی اٹھا دی ہے۔ اوگرا نے سرکاری مراسلوں میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک ریگولیٹری ادارہ ہے، پالیسی ساز ادارہ نہیں۔ ادارے کے مطابق پرائس ڈیفرنشل کلیم کا تصور، اس کی شرح، اہلیت، فنڈنگ اور ادائیگی کا طریقہ کار مکمل طور پر وفاقی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے اور اوگرا نے صرف وزارتِ توانائی کی تحریری ہدایات پر عمل کیا۔
دستاویزات کے مطابق 14 مارچ 2026 کو پیٹرولیم ڈویژن نے وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں اوگرا کو ادائیگیوں کا طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بعد ازاں اوگرا نے 2022 میں منظور شدہ طریقہ کار اپنانے کی سفارش کی جسے وزارتِ توانائی نے متعدد خطوط کے ذریعے توثیق فراہم کی۔
اہم سوال یہ ہے کہ اگر 2022 میں یہی طریقہ کار وفاقی کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری سے نافذ ہوا تھا اور اسی بنیاد پر 240 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں تو پھر 2026 میں اچانک اسی نظام کو مشکوک قرار دینے کی وجہ کیا ہے؟
ذرائع کے مطابق اصل تنازع صرف ادائیگیوں کا نہیں بلکہ ذمہ داری کے تعین کا ہے۔ اگر ایف آئی اے خریداری کے حجم کو درست معیار قرار دیتی ہے تو اس کے اثرات صرف موجودہ 120 ارب روپے کے کلیمز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ماضی میں کی گئی سیکڑوں ارب روپے کی ادائیگیاں بھی جانچ پڑتال کی زد میں آ سکتی ہیں۔
اوگرا نے اپنے تازہ مراسلے میں واضح طور پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ پرائس ڈیفرنشل کلیم بنیادی طور پر حکومتی پالیسی کا معاملہ ہے، اس لیے اس کی ادائیگی کا اختیار بھی براہ راست وفاقی حکومت کے متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کے پاس ہونا چاہیے۔ اوگرا نے یہ معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے دوبارہ رکھنے اور ادائیگیوں کے پورے میکنزم کی باضابطہ منظوری لینے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے درآمدات اور سپلائی برقرار رکھی گئی، لیکن اب ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث کمپنیوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کے مطابق اگر اربوں روپے کے واجبات مزید عرصہ رکے رہے تو درآمدات، ورکنگ کیپیٹل اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
پیٹرولیم سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایف آئی اے کی حتمی رپورٹ، ای سی سی کا فیصلہ اور وفاقی حکومت کا مؤقف اس بات کا تعین کرے گا کہ اربوں روپے کے اس تنازع میں اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور آیا ماضی کی ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی دوبارہ کھولا جائے گا یا نہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









