سرکاری اسکولوں میں مفت تعلیم پالیسی کے باوجود طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی نظام تعلیم میں مفت تعلیم کی پالیسی لاگو ہونے کے باوجود سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں واضح کمی آئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران یہ تشویشناک حقیقت سامنے آئی کہ وفاقی نظام تعلیم میں مفت تعلیم کی پالیسی لاگو ہونے کے باوجود سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہو سکا۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس پالیسی کے نفاذ سے پہلے کے 4 برسوں میں اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں 16.64 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جبکہ پالیسی آنے کے بعد کے 4 برسوں میں یہ شرح گر کر صرف 8.12 فیصد رہ گئی، جو کہ کارکردگی میں واضح کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی میں ایک اور 3 سالہ معصوم بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید حکومت کا یہ خیال ہے کہ اب ملک کو تعلیم کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہماری قوم تعلیم میں پیچھے چلی گئی تو پھر بڑی بڑی سڑکیں بنانے کا کیا فائدہ ہوگا۔ کمیٹی کی ممبر شازیہ مری نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان شعبوں کو اہمیت ہی نہیں دے رہے، جو پاکستان کا اصل مستقبل ہیں۔
جب نوید قمر نے پوچھا کہ اگر بچے اسکول جانے پر راضی نہیں ہو رہے تو آپ کے پاس کیا پلان ہے، تو ڈائریکٹر جنرل فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر جدید کورسز اس لیے کروا رہے ہیں تاکہ بچے دلچسپی لیں۔
اس پر نوید قمر نے جواب دیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر آپ کے اعداد و شمار فیل کیوں دکھائی دے رہے ہیں۔ کمیٹی نے رپورٹ کے بعد سال 2014 کے بعد سے اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافے اور تعلیمی پالیسی کے نتائج نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











