جمعہ، 24-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے پولیس کا غیر قانونی سیاسی استعمال، شواہد سامنے آ گئے

17 جولائی, 2026 15:13

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس کے سیاسی استعمال کے خلاف ایک پولیس افسر نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے شکایات کے انبار لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔

خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے سیاسی استعمال کے ناقابلِ تردید شواہد تواتر کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔

ایک حالیہ واقعے میں خیبرپختونخوا پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے براہِ راست پولیس کے سیاسی استعمال کا اعتراف کرتے ہوئے شکایات کے انبار لگا دیئے۔

پولیس افسر نے وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے انتہائی تند و تیز سوالات کیے اور کہا کہ میں نے آپ لوگوں کے لیے بنی گالہ میں مار کھائی، سابق وزیر اعلیٰ کی وجہ سے میں جیلوں میں گیا، زمان پارک میں بھی مار کھائی ہے اور اسلام آباد پولیس نے بھی مجھے جیلوں میں بھیجا، اگر آپ مجھے اس کا بہتر صلہ نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا حق ضرور دیں، جس کا میں حقدار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

پولیس افسر نے کہا کہ حکومت کی غفلت اور بروقت ریسکیو نہ کیے جانے کی وجہ سے میرے 2 جوان شہید ہوئے، اور حکومت ہمیں صرف ایک ہزار روپے راشن الاؤنس دے رہی ہے، آپ خود بتائیں کہ اتنے کم پیسوں میں پورا مہینہ کیسے چلے گا؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں گورننس کی استطاعت بڑھانے اور امن و امان قائم کرنے کی بجائے پولیس فورس کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے بے دردی سے استعمال کر رہی ہے۔

ناقدین نے مزید کہا کہ یہ صورتحال انصاف کے نام پر بننے والی جماعت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے دوغلے پن کا واضح ثبوت ہے، کیونکہ صوبائی حکومت صوبے کا خزانہ اپنے سیاسی جلسے جلوسوں اور احتجاجی قافلوں پر پانی کی طرح بہا رہی ہے جبکہ دوسری طرف سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے والی پولیس فورس فاقوں پر مجبور ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔