وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کا انتخاب کالعدم قرار دینے کا کیس سماعت کے لیے منظور کر لیا

وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کا انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ فریقین اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیئے۔
وفاقی آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا انتخاب کالعدم قرار دینے کے کیس کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کر دیئے، جبکہ عدالت نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی طلب کر لیا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس کیس میں اصل آئینی نکتہ کیا ہے۔ اس موقع پر شیر افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ رضاکارانہ نہیں تھا بلکہ انہوں نے خود لکھا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مستعفیٰ ہو رہے ہیں، جبکہ آئین کی منشا یہ ہے کہ کوئی بھی عوامی عہدیدار صرف رضاکارانہ طور پر ہی مستعفیٰ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
شیر افضل مروت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا تاکہ وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کیا جا سکے اور دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا، شاید وہ بھی منظور نہیں ہوا تھا۔
اس دوران جسٹس علی باقر نجفی نے بھی اس قانونی نکتے پر آبزرویشن دی۔ شیر افضل مروت نے نوازشریف کی پارٹی صدارت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا عدالت نے قرار دیا تھا کہ کوئی بھی نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاست نہیں چلا سکتا اور جب بانی پی ٹی آئی نے استعفے کی ہدایت دی تھی تو وہ خود نااہل تھے، اس لیے پراکسی کے ذریعے معاملات چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












