اتوار، 20-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

پاکستانی شہریوں پر یو اے ای ویزا پابندی کی افواہیں مسترد

14 ستمبر, 2026 09:55

اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات اور قطر کی جانب سے ویزا پابندیوں سے متعلق زیرِ گردش افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کی طرف سے کسی باضابطہ ویزا پابندی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کو ویزے اور روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے، جس کے باعث ویزا پابندی سے متعلق افواہوں کی کوئی باضابطہ بنیاد سامنے نہیں آتی۔


ہر سال ہزاروں پاکستانی یو اے ای جاتے ہیں

ترجمان کے مطابق دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سالانہ تقریباً 40 ہزار سے 50 ہزار پاکستانی شہری متحدہ عرب امارات میں ویزے اور ملازمتیں حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے مقابلے میں تقریباً 7 ہزار سے 8 ہزار افراد مختلف انتظامی وجوہات کی بنا پر واپس بھیجے جاتے ہیں۔ ان وجوہات میں ویزے کی مدت ختم ہونا اور معمولی نوعیت کی تکنیکی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایسے معاملات کو عمومی ویزا پابندی قرار دینا درست نہیں۔

قطر میں ویزا پابندی کی بھی تصدیق نہیں

قطر کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پابندی عائد کیے جانے کی بھی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث قطر میں ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ میں کچھ تاخیر ممکن ہے، جسے کسی باقاعدہ ویزا پابندی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔


شہری افواہوں کے بجائے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں

پاکستانی حکام نے پاکستان اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا غیر مصدقہ ذرائع سے پھیلنے والی اطلاعات پر اعتماد کرنے کے بجائے ویزا سے متعلق معاملات میں صرف سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو بنیاد بنائیں۔

وزارتِ خارجہ کی وضاحت کے مطابق فی الحال متحدہ عرب امارات یا قطر کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے کسی عمومی ویزا پابندی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔