وزٹ ویزے پر بیرون ملک جانے والے پاکستانی ہوجائیں ہوشیار!!!

پاکستان سے ہر سال بڑی تعداد میں شہری وزٹ یا ٹورسٹ ویزا پر مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
بیورو کے مطابق غیر رجسٹرڈ ایجنٹ یا سب ایجنٹ کے وعدے پر وزٹ ویزا لے کر بیرون ملک جانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ بعض افراد کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ملک پہنچنے کے بعد انہیں فوری نوکری مل جائے گی۔ کچھ ایجنٹ وزٹ ویزا کو آسانی سے ورک ویزا میں تبدیل کروانے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ایسے دعووں پر بغیر تصدیق اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
بیورو آف امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ وزٹ یا ٹورسٹ ویزا عام طور پر ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ویزا تبدیل کرنے کا طریقہ ہر ملک کے اپنے قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کا فیصلہ صرف متعلقہ ملک کی مجاز امیگریشن اتھارٹی کرسکتی ہے۔ کوئی ایجنٹ ویزا تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
غیر قانونی ملازمت پر کیا مشکلات ہوسکتی ہیں؟
وزٹ ویزا پر غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد کو مختلف قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے یا حراست میں لیا جاسکتا ہے۔ بعض معاملات میں جرمانہ، مقدمہ اور ملک بدری بھی ہوسکتی ہے۔
غیر قانونی حیثیت میں کام کرنے والے افراد کے لیے مستقبل میں ویزا حاصل کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں طویل مدت یا مستقل بلیک لسٹنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ملک بدری کی صورت میں پاکستان واپس آنے کے اخراجات بھی متاثرہ شخص کو خود برداشت کرنا پڑسکتے ہیں۔
ملازمت کے نام پر استحصال کا خطرہ
غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اکثر قانونی تحفظ سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے افراد کو تنخواہ نہ ملنے یا رقم میں غیر قانونی کٹوتی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بعض افراد سے طویل اوقات کار لیا جاتا ہے اور انہیں غیر محفوظ ماحول میں کام کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ پاسپورٹ ضبط کیے جانے یا نقل و حرکت محدود ہونے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ علاج، قانونی مدد اور شکایت کے نظام تک رسائی بھی مشکل ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ذہنی دباؤ اور خاندانی پریشانی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
بیرون ملک ملازمت کا محفوظ طریقہ کیا ہے؟
بیورو نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر سے رابطہ کریں۔ ایجنٹ یا ادارے کے لائسنس کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح ملازمت کی پیشکش اور فارن سروس ایگریمنٹ کو بھی اچھی طرح چیک کیا جائے۔ کسی غیر مجاز ایجنٹ، سب ایجنٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو رقم یا اصل دستاویزات دینے سے گریز کیا جائے۔
رقم کی ادائیگی صرف قانونی طریقے سے کی جائے اور ہر ادائیگی کی باقاعدہ رسید حاصل کی جائے۔ بیرون ملک روانگی سے پہلے درست ورک ویزا، تحریری ملازمت کا معاہدہ اور دیگر ضروری دستاویزات اپنے پاس ہونا ضروری ہیں۔
ملازمت کے معاہدے کو اچھی طرح پڑھیں
ورک ویزا حاصل کرنے کے بعد بھی ملازمت کے معاہدے کو سمجھے بغیر دستخط نہیں کرنے چاہئیں۔ معاہدے میں تنخواہ، کام کے اوقات، ڈیوٹی، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولت واضح ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ طبی سہولت، چھٹیوں، ملازمت ختم ہونے اور وطن واپسی سے متعلق شرائط بھی دیکھیں۔ اگر کسی شرط کے بارے میں وضاحت نہ ہو تو متعلقہ ادارے سے معلومات حاصل کریں۔
بیورو نے شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک روانگی سے پہلے متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے قانونی تحفظ حاصل کریں۔ اس طرح ملازمت کے لیے بیرون ملک جانے والے افراد اپنے سفر اور روزگار سے متعلق قانونی تقاضے بہتر طور پر پورے کرسکتے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












