پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کیس: تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمیوں میں استعمال نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔ بینچ میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بھی شامل تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کو اسلام آباد میں سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا ایسی عمارتوں پر قبضے یا رکاوٹ کا قانونی اختیار نہیں جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت یا تعلیمی اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہو۔
عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ کسی سیاسی احتجاج، ریلی یا لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل، سرکاری گاڑیوں، مشینری یا ملازمین کو استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ کسی سرکاری ملازم کو بھی سیاسی احتجاج یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی سرکاری افسر پر سیاسی احتجاج میں شرکت یا سرکاری وسائل استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو وہ فوری طور پر متعلقہ چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا انسپکٹر جنرل پولیس کو آگاہ کرے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ کو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کی ہدایت بھی کی، جبکہ چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور پولیس کے سربراہان کو متعلقہ ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا کہا گیا۔
عدالت میں سماعت کے دوران کیا ہوا؟
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے پی ٹی آئی کے سابق احتجاجوں سے متعلق ویڈیوز عدالت میں چلانے کی اجازت طلب کی۔ ابتدا میں چیف جسٹس نے اس طریقے پر تحفظات کا اظہار کیا، تاہم بعد میں ایک مرتبہ ویڈیوز چلانے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد 2022 اور 2024 کے احتجاجوں سے متعلق ویڈیوز عدالت میں دکھائی گئیں۔
اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ احتجاجوں کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی متاثر ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ احتجاج اور ریلیوں کے لیے قانون میں طریقہ کار موجود ہے اور انتظامیہ کو سکیورٹی انتظامات کے لیے پیشگی معلومات درکار ہوتی ہیں۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا حکومتی نمائندوں کو اشتعال انگیز تقاریر کا اختیار حاصل ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ آئین کسی کو اشتعال انگیز تقریر کی اجازت نہیں دیتا، تاہم پرامن احتجاج کا حق موجود ہے اور یہ حق قانون کے تابع ہے۔
عدالت نے خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کو بھی روسٹرم پر طلب کیا اور سرکاری مشینری کے ممکنہ استعمال سے متعلق ان کا بیان حلفی سنا۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی غیر قانونی اقدام ہوا تو اسے روکا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگر کوئی غیر آئینی اجتماع ہو تو اسے روکنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 ستمبر کو پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی تھیں۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو احتجاج کی کال دی ہے جس میں پارٹی کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات اٹھائے جائیں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











