شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، پی ٹی آئی احتجاج پر عدالتی فیصلہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں لارجر بینچ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو پُرامن اجتماع، سیاسی اختلاف اور اظہارِ رائے کا آئینی حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے جان، آزادی، عزت، آزادانہ نقل و حرکت اور کاروبار کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت بانی پی ٹی آئی کے کیس کا ریکارڈ طلب کرلیا
عدالت کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 15 شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت اور آرٹیکل 16 پُرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، مگر سیاسی احتجاج کے حق اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان آئینی توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام آباد میں آئینی اداروں کے معمول کے کام کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے اور عوام کو اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں تک رسائی کا پورا حق حاصل ہے۔
فیصلے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کسی سرکاری عہدیدار یا ذمہ دار شخص کی وجہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے یا قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو اسے حلف کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور ذمہ داروں کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











