سم رجسٹریشن کیلئے پی ٹی اے کا نیا منصوبہ سامنے آگیا

PTA Announces Major SIM Update
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایسے شہریوں کے لیے اہم اقدام پر کام شروع کر دیا ہے جنہیں فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے نئی سم حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
اس مقصد کے لیے نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت (فیس ویریفکیشن) پر مبنی نیا تصدیقی نظام متعارف کروانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر اس منصوبے کی منظوری مل جاتی ہے تو ہزاروں شہری آسانی سے سم رجسٹر کروا سکیں گے۔
رپورٹس کے مطابق پی ٹی اے ایک ایسا جدید نظام تیار کر رہی ہے جس میں فنگر پرنٹس کے بجائے چہرے کی شناخت کے ذریعے صارف کی تصدیق کی جا سکے گی۔ اس نئے طریقہ کار میں سکیورٹی کے تمام تقاضوں کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ صارفین کی شناخت محفوظ اور قابل اعتماد انداز میں مکمل ہو سکے۔
یہ سہولت خاص طور پر بزرگ افراد، مزدوروں اور ایسے شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی جن کے فنگر پرنٹس بار بار تصدیق نہ ہونے کے باعث سم کے اجرا میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے انہیں غیر ضروری انتظار اور اضافی کاغذی کارروائی سے بھی نجات ملنے کی امید ہے۔
پی ٹی اے نے اس منصوبے سے متعلق پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ حکومت اور پارلیمان کو بھی ارسال کر دی ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس کی تصدیق کے محفوظ متبادل کی تلاش میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے چہرے کی بائیومیٹرک تصدیق کو قابل عمل حل سمجھا جا رہا ہے۔
اس مقصد کے لیے پی ٹی اے نے نادرا سے باضابطہ درخواست بھی کی ہے کہ پاک آئی ڈی ایپ میں فنگر پرنٹس کے ساتھ ساتھ چہرے کی شناخت کے ذریعے بھی تصدیق کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس نظام کو ملک بھر میں سم رجسٹریشن کے لیے سرکاری طور پر منظور کیا جائے تاکہ تمام ٹیلی کام کمپنیاں ایک ہی طریقہ کار پر عمل کر سکیں۔
منصوبے کی منظوری کے بعد موبائل کمپنیوں کے کسٹمر سروس سینٹرز اور فرنچائزز پر صارفین کی شناخت چہرے کی تصدیق کے ذریعے بھی ممکن ہوگی۔ اس سے خاص طور پر ان افراد کو فائدہ پہنچے گا جو بار بار بائیومیٹرک ناکامی کی وجہ سے سم حاصل نہیں کر پاتے۔
پی ٹی اے کے مطابق متبادل تصدیقی طریقہ کار پہلے ہی محدود پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جنوری 2025 سے اب تک 70 ہزار 871 سمیں ایسے افراد کو جاری کی جا چکی ہیں جن کے فنگر پرنٹس عام بائیومیٹرک نظام سے تصدیق نہیں ہو سکے تھے۔ ان صارفین نے نادرا کے جاری کردہ خطوط یا طبی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر اپنی شناخت مکمل کروائی، جس کے بعد انہیں سم جاری کی گئی۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












