میانمار میں فوج کے فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 133 تک پہنچ گئی

وسطی میانمار کے ایک گاؤں پر فوجی جنتا کے فضائی حملے میں 20 بچوں اور کئی خواتین سمیت ہلاکتوں کی تعداد 133 ہوگئی۔
میانمار کے وسطی ساگانگ علاقے میں واقع ایک گاؤں کنبالو ٹاؤن شپ میں منگل کو ہونے والے اس حملے کو دو سال قبل فوجی بغاوت کے ذریعے جنتا کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اب تک واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 133 ہوچکی ہے، جبکہ 50 سے زائد زخمی بھی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیوں کہ علاقے میں فوجی جنگی طیاروں کی پروازیں اب بھی جاری ہیں، جس کے باعث امدادی عمل شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : میانمار : معزول رہنماء آنگ سان سوچی کو مزید سات سال قید کی سزا
اس واقعے پر اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ وہ مہلک فضائی حملوں سے خوف زدہہیں، جن کے متاثرین میں اسکول کے بچے بھی شامل ہیں، جو رقص کر رہے ہیں، عالمی ادارہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
حملے کا بظاہر ہدف مقامی مزاحمتی تحریک کی جانب سے انتظامیہ کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر جشن تھا۔ فضائی حملے کے بعد عمارت کا صرف جلا ہوا فریم ہی باقی رہا ہے۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











