چین کی عالمی سرمایہ کاری پر امریکہ پریشان

چین نے عالمی سرمایہ کاری میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا، اس صدی کے آغاز سے 23 سالوں میں چین عالمی منصوبوں پر 1 ٹریلین ڈالرز خرچ کر چکا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین تیزی کیساتھ عالمی مالی قوت بنتا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ عشروں میں امریکہ کی جگہ لے لیگا، سپر پاور امریکہ اس حقیقت کو بخوبی جانتا ہے اور چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے خلاف کام کر رہا ہے، امریکی میڈیا بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔
وائس آف امریکہ تحقیقی رپورٹ میں کہتا ہے کہ بیجنگ دنیا کے سب سے زیادہ مطلوبہ فنانسرز میں سے ایک ہے۔
ورجینیا کی ایک پبلک یونیورسٹی ولیم اینڈ میری کی ایڈ ڈیٹا ریسرچ لیب کے مطابق، 2000 میں شروع ہونے والے 22 سالہ عرصے کے دوران، چین نے 165 ممالک میں 20,985 سے زیادہ منصوبوں پر کم از کم $1.34 ٹریلین خرچ کیا۔
AidData تحقیق کا مقصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں چین کی اکثر مبہم گرانٹ دینے اور قرض دینے کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالنا ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے 2013 میں اپنے عالمی منصوبے ون بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے آغاز کے بعد سے بین الاقوامی ترقیاتی منصوبوں پر اپنے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا اور اپنے ابتدائی سالوں میں، امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کو دوگنا یا اس سے زیادہ کے پیمانے پر پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے چین سے 2 ارب ڈالر قرض مؤخر کرنے کی درخواست کردی
بیجنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے، سات سرکردہ صنعتی جمہوریتوں کا گروپ G-7 مشترکہ طور پر اپنے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کرتا رہا ہے اور 2021 میں بین الاقوامی ترقیاتی منصوبوں پر چین کو 84 بلین ڈالر سے پیچھے چھوڑ دیا ہے، لیکن AidData کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا چین کے وسیع زرمبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس "بیجنگ کے ساتھ ڈالر کے بدلے ڈالر کا مقابلہ کرنے کی مالی طاقت” ہے یا نہیں۔
ایڈ دیٹا کی تحقیقی رپورٹ مختلف سیکٹرز کے لحاظ سے چینی سرمایہ کاری کا بھی تفصیلی احاطہ کرتی ہے (منصوبے اور لاگت ڈالرز میں):
صنعت، کان کنی اور تعمیرات (955 منصوبے) 403,740,000,000
توانائی (1,150 منصوبے) 278,421,000,000
بینکنگ اور مالیاتی خدمات (422 منصوبے) 232,474,000,000
نقل و حمل اور ذخیرہ (1,359منصوبے) 199,167,000,000
دیگر ملٹی سیکٹر (319 منصوبے) 96,087,000,000
بجٹ سپورٹ (113 منصوبے) 75,575,000,000
مواصلات (640 منصوبے) 60,803,000,000
سماجی انفراسٹرکچر (1,136 منصوبے) 28,318,000,000
قرض سے متعلق کارروائی (368منصوبے) 22,113,000,000
کاروبار اور دیگر خدمات (220 منصوبے) 18,547,000,000
پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی (338 منصوبے ) 16,478,000,000
زراعت، جنگلات اور ماہی گیری (849 منصوبے) 15,069,000,000
غیر مختص/غیر متعینہ (191 منصوبے) 14,486,000,000
صحت (3,769 منصوبے) 11,401,000,000
حکومت اور سول سوسائٹی (1,682 منصوبے) 10,218,000,000
تعلیم (2,662 منصوبے) 9,289,000,000
تجارتی پالیسیاں اور ضابطے (181 منصوبے) 8,147,000,000
ایمرجنسی رسپانس (1,092 منصوبے) 2,145,000,000
فوڈ ایڈ اسسٹنس (295 منصوبے) 2,055,000,000
ماحولیاتی تحفظ (82 منصوبے) 257,000,000
آفات کی تیاری (31 منصوبے ) 234,000,000
تعمیر نو ریلیف (44 منصوبے) 226,000,000
کموڈٹی اسسٹنس (49 منصوبے) 191,000,000
آبادی کے پروگرام اور تولیدی صحت (10 منصوبے) 3،000،000
چین گزشتہ 23 سالوں میں دنیا بھر کے 17،002 منصوبوں پر ایک ٹریلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ واضح رہے کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ انشیئٹو منصوبے میں دنیا کے 150 ممالک اور عالمی تنظیمیں شامل ہیں، یہ منصوبہ 2013 میں شروع کیا گیا تھا جس کا ایک حصہ پاکستان کا سی پیک کہلاتا ہے۔
ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ایشیا کو افریقہ اور یورپ سے جوڑتا ہے اور عالمی معیشت میں انقلابی ثابت ہو سکتا ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ کی عالمی معاشی برتری کا خاتمہ ممکن نظر آتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












