جمعہ، 12-جون،2026
جمعرات 1447/12/25هـ (11-06-2026م)

بھارت منشیات کا مرکز، لاکھوں قیمتی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں

23 فروری, 2025 10:49

بھارت سے منشیات کی عالمی اسمگلنگ عروج پر ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی UNODC کے مطابق بھارت منشیات اور کیمیکل اسمگلنگ کا بڑا مرکز ہے، منشیات کی میانمار سے وسطی امریکا اور افریقہ تک فراہمی جاری ہے۔

مزید پڑھیں:مودی کے انتہا پسند بھارت میں 168 سال پرانی مسجد شہید

جرمن میڈیا ڈی ڈبلیو نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ بھارت ہمیشہ سے منشیات کی اسمگلنگ کا مرکز رہا ہے، اور بھارت سے منشیات اسمگلنگ کے راستے اور طریقے مزید جدید ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت سے افیون کی ترسیل سے ہزاروں زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں، بھارت سے جاری منشیات اسمگلنگ صحت عامہ کے بحران کو بڑھا رہی ہے، بھارت بین الاقوامی سطح پر وسطی افریقہ کو منشیات فراہم کرتا ہے۔

نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی نے 2023 میں بھارت سے سپلائی پر کارروائی کی تھی، منشیات کنٹرول ایجنسی نے بھارت سے اسمگل 100 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی افیون ضبط کی تھی۔ بی بی سی کے مطابق نائیجیریا کی ایجنسی نے ٹراماڈول ضبط کیے جو نشہ آور دواؤں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد بھارت سے اسمگل افیون استعمال کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گھانا کا شہر تمالی بھی بھارت سے اسمگل شدہ افیون کا سب سے بڑا شکار ہے، صحافی یحییٰ مسعود کہتے ہیں کہ منشیات پورے خاندانوں اور ملک کے باصلاحیت افراد کو تباہ کر رہی ہیں، افیون سانس کے مسائل کا سبب جب کہ زیادہ مقدار جان لیوا ہو سکتی ہے، افیون کی قسم ٹفرادول خطرناک ترین منشیات میں شامل ہے اور پہلا انجکشن ہی جان لیوا ہو سکتا ہے۔

منشیات کنٹرول ایجنسی اہلکار کا کہنا ہے کہ بھارت سے آنے والی افیونی ادویات نائیجیریا میں بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، 2018 میں حکومت نے افیونی ادویات کی فروخت اور بھارت سے درآمد پر پابندی لگائی تھی، تب سے اب تک سرحد پار سے مزید افیونی ادویات کی اسمگلنگ جاری ہے، بھارت سے افیون گھانا اسمگل کی جاتی ہیں اور پھر گھانا کی سرحد سے نائیجیریا پہنچتی ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔