ٹرمپ نے روسی معیشت کو نئی زندگی دے دی

ٹرمپ نے روسی معیشت کو نئی زندگی دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے باعث روس کی حد سے زیادہ متاثر ہوتی معیشت کو نئی زندگی بخش دی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے یورپی اتحادیوں کو مذاکرات سے دور رکھ کر یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہیں جنہوں نے پہلے ہی جنگ چھیڑنے کا الزام یوکرین پر عائد کیا جوکہ ماسکو کے لیے ایک سیاسی تحفہ ہے جس سے مضبوط معاشی فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔
روس کے مرکزی بینک کے سابق ڈپٹی چیئرمین اولیگ ویوگن کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے یہ ریلیف ایسے وقت میں سامنے آیا جب ماسکو کو دو ناپسندیدہ آپشنز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس یا تو یوکرین میں علاقہ حاصل کرنے کے لیے فوجی اخراجات میں اضافہ بند کر سکتا ہے یا اسے برقرار رکھ سکتا ہے اور برسوں کی سست شرح نمو، افراط زر اور گرتے ہوئے معیار زندگی کی قیمت ادا کر سکتا ہے۔
اگرچہ سرکاری اخراجات عام طور پر ترقی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن سویلین شعبوں کی قیمت پر میزائلوں پر غیر تجدیدی اخراجات اس حد تک زیادہ ہوگئے ہیں کہ 21 فیصد شرح سود کارپوریٹ سرمایہ کاری کو سست کر رہی ہے اور افراط زر پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔
اولیگ ویوگن کا کہنا تھا کہ اقتصادی وجوہات کی بنا پر روس تنازع کے سفارتی خاتمے کے لیے مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جس سے غیر پیداواری مقاصد کے لئے محدود وسائل کی دوبارہ تقسیم میں اضافہ نہیں ہوگا اور یہ اسٹیگ فلیشن سے بچنے کا واحد طریقہ ہے۔
روس کی جانب سے دفاعی اخراجات میں تیزی سے کمی کا امکان نہیں ہے، جو تمام بجٹ اخراجات کا تقریبا ایک تہائی ہے، لیکن معاہدے کے امکان سے دیگر معاشی دباؤ میں کمی آسکتی ہے، جس سے پابندیوں میں ریلیف مل سکتا ہے اور بالآخر مغربی کمپنیوں کی واپسی ہوسکتی ہے۔
سینٹر فار یورپین پالیسی اینالسز (سی ای پی اے) کے محقق الیگزینڈر کولیندر نے کہا کہ روسی راتوں رات ہتھیاروں کی پیداوار پر خرچ بند کرنے سے ہچکچائیں گے، کیونکہ انہیں کساد پیدا ہونے کا خوف ہے، اور انہیں فوج کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
جنگ سے متعلق بھرتیوں اور نقل مکانی نے بڑے پیمانے پر مزدوروں کی قلت پیدا کردی ہے جس سے روسی بے روزگاری 2.3 فیصد کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
کولیندر نے مزید کہا کہ افراط زر کا دباؤ بھی کم ہوسکتا ہے کیونکہ امن کے امکانات واشنگٹن کو چین جیسے ممالک کی کمپنیوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا امکان کم کرسکتے ہیں جس سے درآمدات زیادہ آسان اور ، سستی ہوجائیں گی۔
روسی مارکیٹوں میں پہلے ہی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پابندیوں میں نرمی کے امکانات کے پیش نظر جمعہ کے روز ڈالر کے مقابلے میں روبل تقریبا چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












