ٹرمپ نے غزہ کے باشندوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے دی

ٹرمپ نے غزہ کے باشندوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے دی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس سے کہا ہے کہ اگر غزہ میں قید تمام یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو وہ تازہ اسرائیلی حملوں کی اجازت دے دیں گے۔
ٹرمپ کا یہ الٹی میٹم دوحہ میں ان کے ایلچی ایڈم بوہلر اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان براہ راست بات چیت کے دوران سامنے آیا ہے تاکہ غزہ میں تازہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو حاصل کیا جا سکے۔
امریکی صدر نے یہ الٹی میٹم جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے حصے کے طور پر رہا کیے گئے چھ قیدیوں سے ملاقات کے بعد دیا۔
یہ بھی پڑھیں: یرغمالیوں کی رہائی؛ امریکا بھی حماس کے سامنے جھکنے پر مجبور
حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے المیادین کو بتایا کہ حالیہ ملاقات نے گروپ کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کے بارے میں امریکا کو "مثبت تاثر” دیا ہے۔
تاہم، عہدیدار نے نوٹ کیا کہ امریکی سفیر نے صرف ممکنہ قیدیوں کے تبادلے پر توجہ مرکوز کی اور جنگ بندی یا غزہ پر جنگ کے خاتمے جیسے وسیع تر معاملات پر توجہ نہیں دی۔
عہدیدار نے کہا کہ امریکی فریق نے قیدیوں کے تبادلے کے لئے کوئی مخصوص فریم ورک پیش نہیں کیا لیکن اس معاملے پر حماس کے نقطہ نظر کو سنا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے حماس سے براہ راست رابطہ کرلیا، امریکی میڈیا کا انکشاف
فلسطینی مزاحمتی عہدیدار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ ملاقات امریکا کی درخواست پر ہوئی اور اس نے اسرائیلی حکام کو حیران کردیا۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کا آغاز اسرائیلی زبان میں شالوم حماس لکھ کر کیا جس کا مطلب ہیلو اور الوداع ہے، امریکی صدر کا حماس سے مخاطب ہوکر کہنا تھا کہ ہیلو اور الوداع میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں، تمام یرغمالیوں کو ابھی رہا کریں، بعد میں نہیں اور ان تمام لاشوں کو فوری طور پر واپس کیا جائے جنہیں آپ نے قتل کیا ورنہ یہ آپ کے لیے ختم تصور ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کے لیے ایک خوبصورت مستقبل منتظر ہے لیکن اگر آپ یرغمالیوں کو قید رکھتے ہو آپ لوگ مر چکے ہو۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










