امریکا کیساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے، ایران کا دو ٹوک مؤقف

امریکا کیساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے، ایران کا دو ٹوک مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیے جانے کے بعد ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراغچی نے کہا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک کہ اسلامی جمہوریہ کے بارے میں دوسرے فریق کے نقطہ نظر میں تبدیلی نہیں آ جاتی۔
اعلی ایرانی سفارت کار نے کہا کہ تہران دھمکیوں کے تحت واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک ٹرمپ اپنی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی پر قائم رہیں گے۔
اسی پالیسی کے تحت صدر ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک تاریخی معاہدے سے امریکا کو الگ کر لیا تھا اور تہران پر سخت پابندیاں دوبارہ عائد کر دی تھیں۔
تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان 2015 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران کو پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری عزائم کو محدود کرنا ہوگا۔
امریکا سمیت مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں جس کی تہران نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افزودگی کی سرگرمیاں صرف پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔
ٹرمپ نے 7 مارچ کو کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خط لکھ کر جوہری مذاکرات کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر تہران انکار کرتا ہے تو ممکنہ فوجی کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق یہ خط متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے 12 مارچ کو تہران پہنچایا تھا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکی دھمکیاں انہیں کہیں نہیں پہنچائیں گی اور خبردار کیا کہ اگر انہوں نے ایران کے خلاف کچھ بھی کیا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں امریکا کے ایلچی اسٹیون وٹکوف نے جمعے کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ٹرمپ کا مقصد ایران کے ساتھ اعتماد پیدا کرکے فوجی تنازعات سے بچنا ہے جب کہ یہ خط دھمکی کے طور پر نہیں تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












