اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد بااختیار جبکہ امریکی وفد اسرائیلی دباؤ میں تھا، پروفیسر مرندی

پروفیسر مرندی کا کہنا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر مسلسل نیتن یاہو کو رپورٹیں فراہم کر رہے تھے، امریکی وفد مکمل طور پر اسرائیلی دباؤ میں تھا۔
اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے تاریخی مذاکرات کے حوالے سے تہران یونیورسٹی کے نامور پروفیسر محمد مرندی، جو ایرانی خارجہ پالیسی کے گہرے نبض شناس سمجھے جاتے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ صیہونی ریاست اور اسرائیل نواز لابی ان مذاکرات کو سرے سے ہونے ہی نہیں دینا چاہتی تھی۔
سی جی ٹی این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گرد دو معروف صیہونی اور ’اسرائیل فرسٹ‘ ماہرین کا گھیرا تھا، جو ہر لمحہ ان کی نگرانی کر رہے تھے۔
پروفیسر محمد مرندی کے مطابق امریکی نائب صدر مذاکرات کے دوران مسلسل ٹیلی فون کالز میں مصروف پائے گئے اور ان کے رابطے براہ راست اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور، پاکستان کی سول و عسکری قیادت میزبانی کیلئے متحرک
یاد رہے کہ نیتن یاہو نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی نائب صدر انہیں مذاکراتی عمل کی تفصیلی رپورٹیں فراہم کر رہے تھے۔
پروفیسر مرندی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ ایک سپر پاور کا نائب صدر کسی دوسرے ملک کے سربراہ کو اپنی پل پل کی کارروائی رپورٹ کر رہا ہو، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی وفد کے پاس آزادانہ فیصلے کرنے کا کوئی حقیقی اختیار موجود نہیں تھا۔
ایرانی وفد کے حوالے سے پروفیسر مرندی نے بتایا کہ تہران کی پالیسی بالکل مختلف اور خود مختار تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران ایک بار بھی تہران رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ انہیں ایرانی قیادت کی جانب سے حتمی فیصلے کرنے کا مکمل اور غیر مشروط اختیار دے کر بھیجا گیا تھا۔
مرندی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی رپورٹس کسی کو نہیں دیتا، بلکہ اس بار تو وفد کو تہران سے بھی ہدایات لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












