جمعرات، 16-اپریل،2026
جمعرات 1447/10/28هـ (16-04-2026م)

مودی کی نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی کوشش

16 اپریل, 2026 08:55

بھارتی حکومت نے ملک کے سیاسی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں متنازعہ حلقہ بندیوں اور آئینی ترامیم کے ذریعے 2029 تک ہندوستان کو ہندو ریاست بنانے کی راہ ہموار کی جائے گی۔

بھارت میں بی جے پی حکومت نے ملک کے سیاسی اور وفاقی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے ایک انتہائی متنازعہ اور دور رس نتائج کے حامل منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں 131 واں آئینی ترمیمی بل 2026 پیش کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہے۔

اس سلسلے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا ایک خصوصی مشترکہ اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا گیا ہے، جس میں اس بل پر بحث اور منظوری متوقع ہے۔

اس مجوزہ بل کے ذریعے بھارتی آئین کے آرٹیکل 81, 82, 170, 330 اور 332 میں بنیادی ترامیم کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو 2020 کی حلقہ بندیوں کے دوران لگائی گئی نشستوں کی حد کو ختم کرنا ہے، جس کے بعد لوک سبھا کی مجموعی نشستیں 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 تک پہنچ جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی بہترین خارجہ پالیسی کا بھارتی حلقوں میں اعتراف

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ نشستوں میں اس اضافے کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا کیونکہ اس سے شمالی اور وسطی بھارت کی ان ریاستوں میں نشستیں بڑھ جائیں گی، جہاں ہندو قوم پرست جماعت کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔

بل میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا نفاذ بھی شامل ہے، بظاہر یہ ایک سماجی اصلاح دکھائی دیتی ہے، لیکن ناقدین اسے بی جے پی کی جانب سے خواتین کے ووٹ بینک کو اپنی طرف کھینچنے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ایک چال قرار دے رہے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر حلقہ بندیاں کی جائیں گی تاکہ انتخابی نظام پر بی جے پی کا کنٹرول مزید مضبوط ہو سکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت 2026 کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی، اس لیے اب وہ قانونی اور آئینی راستوں سے 2029 کے انتخابات تک ایسی پوزیشن حاصل کرنا چاہتی ہے، جس کے ذریعے ہندوستان کو باضابطہ طور پر ایک ہندو ریاست قرار دیا جا سکے۔

تاہم اس منصوبے پر جنوبی ریاستوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے سیاسی طاقت کا توازن مکمل طور پر شمالی ریاستوں کے حق میں جھک جائے گا اور وفاقی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل کسی ایک سیاسی جماعت کے فائدے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔