جمعہ، 24-اپریل،2026
جمعہ 1447/11/07هـ (24-04-2026م)

اسرائیل کی شہ رگ، میٹھے پانی کے پلانٹس اور جنگی خطرات

24 اپریل, 2026 10:41

اسرائیل نے اپنی بنجر زمین کو پانی سے سیراب کرنے کے لیے جس ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر لگائے، اب وہی اس کی سب سے بڑی اسٹریٹجک کمزوری بن چکی ہے کیونکہ اس کے تمام بڑے پلانٹس دشمن کے نشانے پر ہیں۔

دہائیوں تک اسرائیل پانی کی شدید قلت کا شکار رہا، لیکن پھر اس نے سمندری پانی کو میٹھا بنانے یعنی ڈی سیلینیشن کے انقلاب کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا۔ آج اسرائیل کے پینے اور صنعتی استعمال کا اسی فیصد پانی انہی پلانٹس سے آتا ہے۔

تل ابیب کے قریب سورک کمپلیکس سمیت پانچ بڑے پلانٹس اس وقت ملک کی زندگی کی ضمانت ہیں، لیکن یہی کامیابی اب اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک جال بن چکی ہے۔

خلیجی ممالک کے برعکس اسرائیل کا پورا واٹر سسٹم ایک تنگ ساحلی پٹی پر مرکوز ہے، جو اسے دشمن کے حملوں کے لیے انتہائی آسان ہدف بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فضائیہ کے دو اہلکار ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

یہ تمام پلانٹس اب میزائلوں، بحری ڈرونز اور سائبر حملوں کی زد میں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ پلانٹس بجلی کے لیے قدرتی گیس پر انحصار کرتے ہیں، جو سمندر میں موجود پلیٹ فارمز سے آتی ہے۔

اگر ان گیس پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا تو پورا نظام بیٹھ جائے گا اور تل ابیب پانی کی بوند بوند کو ترس جائے گا۔ اس کا اثر صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اردن کو ملنے والا پانی کا کوٹہ بھی ختم ہو جائے گا، جس سے علاقائی امن کے معاہدے خطرے میں پڑ جائیں گے۔

اسرائیل نے پانی کو اپنی طاقت بنایا تھا، مگر اب اس کے مخالفین اسی طاقت کو اس کے خلاف دباؤ کے سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔