اقوام متحدہ کا مستقبل میں پانی پر جنگوں کا سنگین انتباہ

اقوام متحدہ نے دنیا کے آبی دیوالیہ پن کی طرف بڑھنے کا انتباہ دیا ہے، جس کے باعث مستقبل کی عالمی کشیدگی نظریات کے بجائے دریاؤں اور پانی کے ذخائر پر شروع ہو سکتی ہے۔
پانی اب محض ایک قدرتی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایسی معاشی اور جغرافیائی طاقت بن چکا ہے، جس کی کمی عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دریا، جھیلیں اور گلیشیئرز اس رفتار سے ختم ہو رہے ہیں، جو ان کی بحالی کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔
دنیا بھر میں اٹھاون ٹریلین ڈالر کی معاشی قدر براہ راست تازہ پانی کے نظام پر منحصر ہے، جس میں زراعت، توانائی اور صنعت شامل ہیں۔ اس وقت دنیا کی نصف سے زائد غذائی پیداوار ان علاقوں سے آ رہی ہے، جو پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : جنگی معیشت کا عروج، عام آدمی کیلئے مہنگائی، کارپوریٹ سیکٹر کیلئے ڈالرز کا سیلاب
پانی کے بحران کے تین بڑے مراکز اس وقت پوری دنیا کی توجہ کے طالب ہیں۔ دریائے نیل پر مصر اور ایتھوپیا کا تنازعہ، جہاں ایتھوپیا کا ڈیم مصر کی غذائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دوسرا بڑا مرکز انڈس واٹر سسٹم ہے، جہاں پاکستان کی زراعت اور معیشت کا دارومدار دریائے سندھ پر ہے، اور بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم میں کوئی بھی خلل ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ تیسرا مرکز امریکہ کا دریائے کولوراڈو ہے، جہاں سات ریاستوں کے لاکھوں لوگ پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
اگر مالیاتی منڈیوں نے اب بھی پانی کے اس سنگین رسک کو نظر انداز کیا، تو مستقبل میں خوراک کی کمی، بڑے پیمانے پر ہجرت اور سرحدی تنازعات جیسے بحرانوں کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












