ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، پیوٹن یوکرین میں جنگ بندی کا اعلان کرسکتے ہیں، ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی عسکری قوت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین میں جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خلابازوں کے ایک وفد سے ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے خلابازوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جو کام کر رہے ہیں اس کی عالمی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ایٹمی پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کسی بھی صورت ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ اور فضائیہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے بیاسی فیصد میزائل بھی نشانہ بنائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی معیشت اب مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے اور ایرانی کرنسی کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘بادشاہت’ کا شوق اور سنہری مجسمہ
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے پاس اب میزائل بنانے کی صلاحیت اور طیارہ شکن ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر ہے اور امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
روس اور یوکرین کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر پیوٹن یوم فتح کے موقع پر یوکرین میں جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خود روسی صدر بھی نہیں چاہتے کہ ایران ایٹمی طاقت بنے اور پیوٹن نے ایران کی یورینیم افزودگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین میں جاری جانی نقصان پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں روزانہ بہت سے لوگ مارے جا رہے ہیں اس لیے ایک محدود جنگ بندی بھی خوش آئند قدم ہوگا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یوکرین کے مسئلے پر ان کے برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کے ساتھ کچھ اختلافات موجود ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











