مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نقشہ بدل چکا؛ ایرانی اسٹرئیکس نے امریکا کے دفاعی حصار کو ہلا کر رکھ دیا

مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ہل کر رہ گیا ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکا کی فوجی برتری کو چیلنج کر دیا ہے۔ خطے میں سیکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کئی اہم تنصیبات متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، جو ماضی میں مضبوط قلعے سمجھے جاتے تھے، اب شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ خاص طور پر کویت میں واقع کیمپ بوہرنگ جیسے اڈوں کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے مختلف حملوں میں کم از کم آٹھ ممالک میں قائم سولہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بعد کئی مقامات پر ڈھانچہ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔
ان حملوں میں امریکی دفاعی نظام کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ خاص طور پر حساس اثاثے متاثر ہوئے جن میں فضائی نگرانی کے نظام، جدید ریڈار اور مواصلاتی نیٹ ورک شامل ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ خطے میں تعینات بڑی تعداد میں امریکی اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق اہلکاروں نے فوری طور پر انخلا کیا اور اب دور دراز مقامات سے کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔
سب سے بڑا حملہ قطر میں واقع العدید ایئربیس پر ہونے کا بتایا جا رہا ہے، جو خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ہزاروں امریکی فوجی تعینات تھے۔ رپورٹس کے مطابق اس اڈے کو دو بار نشانہ بنایا گیا جس سے نمایاں نقصان ہوا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر سیٹلائٹ نگرانی، نے اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ اب ایرانی نظام زیادہ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خطے میں سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ ان حالات کے بعد دونوں ممالک میں امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اب ایک اہم سوال سامنے آ رہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی واقعی استحکام کا باعث ہے یا یہ خود ایک نیا اسٹریٹیجک خطرہ بن رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس سوال کا جواب خطے کی بدلتی صورتحال سے واضح ہوگا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










