آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان شدید لڑائی، امریکی جہاز پسپائی پر مجبور

آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج اور امریکی بحریہ کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں، ایران نے امریکی تباہ کن جہازوں کو پیچھے دھکیلنے اور انہیں بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان براہ راست تصادم ہوا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور عسکری ذرائع کے مطابق امریکی افواج نے جاشک کے قریب ایک ایرانی تیل بردار ٹینکر کو نشانہ بنایا اور ساحلی بستیوں پر فضائی حملے کئے، جس کے جواب میں ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے ایک بڑے پیمانے پر جوابی آپریشن شروع کیا۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور بارود بردار ڈرونز کے ذریعے تین امریکی تباہ کن جہازوں (ڈسٹرائرز) کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکی بحری بیڑے پسپائی اختیار کرتے ہوئے بحیرہ عمان کی جانب فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے روس اور چین میں بھی امریکی جاسوسوں کی نشاندہی کی، مصطفیٰ پور محمدی
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور انہوں نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ ایران نے بغیر کسی اشتعال کے میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جس کے جواب میں انہوں نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے میزائل لانچنگ پیڈز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا۔
اس دوران تہران میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ امریکی حملوں میں ایرانی بندرگاہوں قشم اور بندر عباس کے قریب شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، تاہم جانی نقصان کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ بمباری شروع کر دیں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










