نیتن یاہو کا ٹرمپ پر دباؤ، اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں چاہتا، سابق اسرائیلی فوجی عہدیدار

سابق اسرائیلی فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو روکا جا سکے، کیونکہ معاہدے کی صورت میں اسرائیل کے لیے مستقبل میں ایران پر حملے کے راستے بند ہو جائیں گے۔
اسرائیلی فوج کے شعبہ انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار ڈینی سیٹرینووچ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اہم انکشافات کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ قیادت کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ناقص معاہدے سے بہتر ہے کہ کوئی معاہدہ ہی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل پر فلسطینیوں کو زندہ جلا کر بخارات بنانے والے ہتھیاروں کے استعمال کا الزام
اسرائیل اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھرپور سفارتی اور سیاسی دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے ایٹمی سمجھوتے کو مسترد کر دیں کیونکہ تل ابیب کا خیال ہے کہ اگر کوئی باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا تو عالمی قوانین اور امریکی دباؤ کے باعث اسرائیل کے لیے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
سابق انٹیلی جنس چیف نے اعتراف کیا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ اور شدید کشیدگی کے باوجود ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور تہران کسی بھی صورت میں عالمی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے یا اپنی ایٹمی ریڈ لائنز سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی کھلے عام مخالفت نہیں کر سکتے۔ اگر صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط کر دیتے ہیں تو اسرائیل سیاسی طور پر بند گلی میں پھنس جائے گا۔
ایسی صورتحال میں اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو اسرائیل ایرانی فوج کے بجائے براہ راست ایران کے سویلین انفراسٹرکچر یعنی عوامی سہولیات کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہو سکتا ہے، جس کے خطے پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











