اسرائیل کی لبنان میں زخمیوں کی مدد کرنے والے ریسکیو ورکرز پر حملوں پر تحقیقاتی رپورٹ جاری

تحقیقات کے مطابق جنوبی لبنان میں 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 121 پیرامیڈیکس اور امدادی کارکن شہید جبکہ 223 زخمی ہو چکے ہیں، جنہیں واضح نشان دہی کے باوجود نشانہ بنایا گیا۔
دی نیشنل اخبار کی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2 مارچ سے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 121 پیرامیڈیکس اور فوری امداد پہنچانے والے کارکناں شہید اور 223 زخمی ہوئے ہیں۔
16 مارچ کو اسرائیل نے لیتانی ندی کے شمال میں پانی کی ایک تنصیب پر حملہ کیا، جس میں دو پیرامیڈیکس علی حلانی اور مہدی ریحان شہید ہوئے۔
اس کے بعد 24 مارچ کو دو نوجوان پیرامیڈیکس جود سلیمان جن کی عمر 16 سال تھی اور علی جابر جن کی عمر 23 سال تھی، اس وقت ایک براہ راست اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، جب وہ غذائی امداد تقسیم کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان پر اسرائیلی حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، عاصم افتخار
اسی طرح 12 مئی کو اسرائیلی فوج نے پیرامیڈیکس حسین جابر اور احمد نورہ کو اس وقت شہید کر دیا، جب وہ اس سے پہلے ہونے والی بمباری میں زخمی ہونے والے ایک عام شہری کی مدد کے لیے تیزی سے جا رہے تھے۔
شہید ہونے والے حسین جابر کے ساتھی حسین دقدوق نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ساتھیوں کی قربانی انہیں کام جاری رکھنے کی طاقت دیتی ہے اور وہ اپنا فرض نہیں چھوڑیں گے۔
اسرائیلی فوج کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ وہ طبی ٹیموں کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ عالمی قانون کے مطابق صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتی ہے۔
تاہم تحقیقات میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ تمام معاملات میں پیرامیڈیکس کی شناخت بطور امدادی کارکن بالکل واضح تھی اور وہاں ایسے کسی فوری فوجی خطرے کے شواہد نہیں ملے، جو ان حملوں کا جواز بن سکتے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












