امریکی میڈیا اور رائے عامہ کو تبدیل کرنے کیلئے کروڑوں ڈالر کی اسرائیلی فنڈنگ کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے 15 ملین ڈالر کی خطیر رقم امریکی میڈیا، سیاسی مشیروں اور مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس پر خرچ کی، تاکہ اسرائیل کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔
تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت سے جڑی رقم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر بریڈ پاسکل کی فرم کے ذریعے منتقل کی گئی۔
اس رقم میں سے 5 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم سیلم میڈیا نامی ایک بڑی قدامت پسند مسیحی میڈیا کمپنی پر اشتہارات کے لیے خرچ کی گئی، جہاں پاسکل خود ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً 5 ملین ڈالر کی رقم ریپبلکن پارٹی کے پرانے اسٹرٹیجسٹ مائیک شیلڈز کی کمپنیوں کو دی گئی اور اس منصوبے پر کام کرنے والے زیادہ تر ملازمین کا تعلق بھی انہی کے سیاسی مشاورتی نیٹ ورک سے تھا۔
اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ یعنی 6 ملین ڈالر اسپارک فائر ٹیکنالوجیز نامی کمپنی کو دیا گیا، جو مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس تیار کرتی ہے۔ یہ چیٹ بوٹس بڑے پیمانے پر امریکی شہریوں کو پیغامات بھیجنے کی مہم چلا رہے تھے تاکہ ان کی سوچ کو بدلا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل امریکی انٹیلی جنس اور میڈیا کو اپنے اشاروں پر نچا رہا ہے، جو کینٹ
ان چیٹ بوٹس کے ذریعے امریکی عوام تک اسرائیل کے حق میں مواد پہنچایا گیا، جس میں ایسی ویڈیوز شامل تھیں، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ غزہ میں لوگوں کی تکالیف کی رپورٹس من گھڑت ہیں۔
اس مہم کی کچھ ویب سائٹس اور ویڈیوز اس طرح بنائی گئی تھیں کہ وہ چیٹ جی پی ٹی اور کلاڈ جیسے مصنوعی ذہانت کے نظاموں تک پہنچنے والی معلومات کو بھی متاثر کر سکیں۔
اس پورے معاملے میں جیکسن پارکر نامی ایک اور فرم بھی شامل ہے، جس کی فلوریڈا کی برانچ سن 2025 میں بریڈ پاسکل اور ایک ارب پتی کاروباری شخصیت ٹم ڈن نے مل کر بنائی تھی۔
ٹم ڈن ایک بڑے امریکی ڈونر ہیں، جو ٹیکساس میں مسیحی طرز حکومت کے حامی ہیں اور اسرائیل کے حق میں مہم چلانے والوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے اپنی عالمی سفارتی مہم کا بجٹ سن 2025 میں 150 ملین ڈالر سے بڑھا کر سن 2026 میں 730 ملین ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












