کانگریس کی امریکی عوام کی بے اعتمادی کے باوجود اسرائیل کیلئے غیر معمولی دفاعی تعاون کی تیاری

امریکی عوام میں اسرائیلی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کے باوجود امریکی کانگریس نے دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جانے کا نیا دفاعی بل تیار کر لیا ہے۔
امریکی کانگریس نے سال 2027 کے قومی دفاعی اجازت نامے کے قانون کی دفعہ 224 کے تحت اسرائیل کے ساتھ فوجی تعلقات کو اس حد تک بڑھانے کی تجویز دی ہے، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
اس نئے اقدام کو متحدہ ریاستیں اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون کا نام دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ سن 1948 سے اب تک اسرائیل کو ملنے والی 200 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد سے کہیں آگے کی چیز ہے۔
اب بات صرف فنڈز یا ہتھیار دینے تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ملکوں کے دفاعی شعبوں اور صنعتی نظام کو ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے اقوام متحدہ کی خاتون مبصر فرانسسکا البانیز پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں لگا دیں
اس نئے قانون کے تحت دونوں ممالک مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی، بغیر پائلٹ کے اڑنے والے طیاروں یعنی ڈرونز، کوانٹم ٹیکنالوجی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور لیزر ہتھیاروں پر کام کریں گے۔
اس کے علاوہ ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری، ایک جیسے دفاعی نظام کے استعمال اور باہمی تعاون کے ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔
ناقدین اور ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے دو الگ اور آزاد فوجی نظاموں کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا، جو کہ ایک خطرناک عمل ہے۔
یہ سب کچھ ان واقعات کے باوجود ہو رہا ہے، جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری کے دوران متعدد بار امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا جس سے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوئی۔ اس نئے بل کے بعد اسرائیل کو حاصل امریکی سرپرستی اور چھوٹ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










