بدھ، 24-جون،2026
بدھ 1448/01/09هـ (24-06-2026م)

بدخشاں کی معدنیات پر قبضے کی جنگ، طالبان قیادت اور تاجک کمانڈر میں ٹھن گئی

24 جون, 2026 12:37

افغان طالبان کی قیادت اور صوبہ بدخشاں کے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم پر سنگین اختلافات کے بعد عسکری بحران پیدا ہو گیا۔

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں قیمتی معدنیاتی وسائل پر قبضے کی جنگ نے ایک بڑے عسکری اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔

افغان طالبان کی مرکزی حکومت اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کو باغی قرار دے کر ان کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سویڈن میں افغان مہاجرین کا طالبان حکومت کے خلاف بڑا احتجاج، عالمی بائیکاٹ کا مطالبہ

افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق طالبان اسپیشل فورسز کا ایک بہت بڑا عسکری قافلہ کمانڈر جمعہ خان فاتح کو گرفتار کرنے کے لیے بدخشاں کے ضلع شغنان کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔

اس کارروائی کے لیے ہمویز اور ٹرکوں سمیت 50 عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان کا بھاری دستہ متحرک کیا گیا ہے۔ دوسری طرف کمانڈر جمعہ خان فاتح نے بھی طالبان قیادت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مقامی افراد کو طالبان حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور علاقے کی کانوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا حکم دے دیا ہے۔

انٹیلیجنس رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ جمعہ فاتح نے طالبان کے خلاف باقاعدہ عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے خلاف صوبہ بدخشاں میں 10 ہزار اور ضلع نسی میں 2 ہزار 500 جنگجو ان کی کمان میں جنگ کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔