امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں لگا دیں

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے ردِعمل میں ایران پر تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر کئے گئے حملوں کے بعد ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں لگا دی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے ان حملوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمت کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے واشنگٹن نے ایرانی تیل کی برآمدات پر وہ پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جنہیں عارضی طور پر ہٹایا گیا تھا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ ماہ ایران کو 21 اگست تک عارضی طور پر تیل فروخت کرنے کا لائسنس دیا تھا، لیکن اب یہ لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا جوابی حملہ، امریکی بحری جہازوں پر میزائل داغ دیئے، بحرین اور کویت میں بھی دھماکوں کی گونج
امریکی حکام کے مطابق یہ پابندیاں 17 جولائی سے مکمل طور پر لاگو ہوں گی کیونکہ ایران نے مفاہمت کی شرائط پر عمل نہیں کیا۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ ان اقدامات سے عالمی تجارتی راہداری میں ٹریفک کے بہاؤ کے لیے شدید خطرات پیدا ہوئے ہیں۔
اس سے قبل دنیا کو امید تھی کہ اس معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں صورت حال جنگ سے پہلے جیسی ہو جائے گی اور عالمی تجارتی دباؤ کم ہوگا، لیکن امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کی یہ کارروائیاں ناقابل قبول تھیں اور اسے سزا دینا ضروری تھا۔
اس فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









