بھارت میں سال 2010 کے بعد خواتین کیخلاف جرائم میں دوگنا سے زائد اضافہ

بھارت میں سال 2010 کے بعد سے خواتین کے خلاف سنگین جرائم کے گراف میں دوگنا سے بھی زیادہ ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم انتہائی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور سال 2010 کے مقابلے میں اب تک ان جرائم کی شرح دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
ان ہولناک سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت بھر میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 80 سے زائد خواتین کے خلاف سنگین جرائم کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔
صرف سال 2024 کے دوران ہی بھارت میں خواتین کے ساتھ زبردستی اور زیادتی کے 29 ہزار 536 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : روسی تیل پر امریکی ٹیرف کی تلوار، مودی سرکار کی معاشی اور سفارتی ناکامیوں کا نیا دور شروع
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی معاشرے میں رائج ذات پات کا بدترین نظام، پولیس اور عدلیہ کی روایتی بے حسی ایسے بنیادی عوامل ہیں، جنہوں نے بھارتی خواتین کی زندگی کو انتہائی مشکل اور اجیرن بنا دیا ہے۔
اس سنگین صورتحال پر بھارتی سماجی کارکن رنجنا کماری کا کہنا ہے کہ بھارت میں جرائم کے ارتکاب کے بعد مظلوم کو انصاف ملنے میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے اور مجرموں کے قانون کی گرفت سے باآسانی بچ نکلنے کے باعث اب مجرم طبقے میں قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔
معروف بھارتی خاتون وکیل کرونا نونڈی نے اس حوالے سے واضح کیا کہ بھارتی حکومت نے زمینی سطح پر مسئلے کی اصل جڑ یعنی معاشرے میں خواتین کے خلاف پائی جانے والی شدید نفرت کو ختم کرنے کے لیے کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










