آبنائے ہرمز کی بندش اور حوثی ناکہ بندی سے سعودی تیل کی برآمدات معطل، مملکت شدید بحران کا شکار

آبنائے ہرمز کے بند ہونے اور حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی ناکہ بندی کے باعث سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات شدید بحران کا شکار ہو گئیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران میں یمن کی شمولیت نے سعودی عرب کے لیے خام تیل کی برآمد کے تمام متبادل راستے مسدود کر دیے ہیں۔
1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران تعمیر کی جانے والی 1200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اب غیر فعال ہو چکی ہے، کیونکہ حوثی فورسز نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے منسلک تمام بحری ترسیل کو روک رکھا ہے۔
اس پائپ لائن کی تعمیر پر 9 ارب 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی لاگت آئی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب برآمدات کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے ریاض کو کس قدر بھاری مالی وسائل کی ضرورت ہوگی۔
سعودی عرب کا بیشتر تیل مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں ہے اور اسے باہر نکالنے کے لیے ملک کے پاس چند محدود اختیارات باقی ہیں۔
پہلا اختیار عمان کے ساتھ عرب سمندر کے راستے نیا معاہدہ کرنا ہو سکتا ہے، جس کے تحت شیبہ آئل فیلڈ سے منسلک پائپ لائن کی توسیع کی جا سکتی ہے، جس کی صلاحیت 10 لاکھ بیرل روزانہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حوثی ملیشیا کے 48 گھنٹوں میں 3 سعودی تیل بردار جہازوں پر حملے
تاہم اس کے لیے سعودی عرب کو عمان کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کے سامنے کچھ سفارتی لچک دکھانی پڑے گی۔ دوسرا اختیار شمال کی جانب ایک نئی پائپ لائن بچھانا ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں 1200 کلومیٹر طویل ٹیپ لائن تھی، جو اردن، شام اور لبنان سے گزرتی تھی۔
لیکن اس راستے میں شدید علاقائی عدم استحکام مانع ہے کیونکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر قبضہ کر رکھا ہے، شام کی صورت حال ابتر ہے اور اردن کا پانی بھی اسرائیل کی تحویل میں ہے۔
کسی بھی نئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کئی سال اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ اگر سعودی عرب کی بحری برآمدات اتنے عرصے تک بند رہیں تو ملک کو اپنے ایک ٹریلین ڈالر کے قومی ویلتھ فنڈ سے اخراجات پورے کرنے پڑیں گے اور وژن 2030 کے بڑے منصوبوں میں شدید کٹوتی کرنا پڑے گی۔
گولڈمین ساکس نے 2026 کے لیے سعودی عرب کا بجٹ خسارہ 80 سے 90 ارب ڈالر رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جس میں حوثی حملوں کے تازہ اخراجات شامل نہیں ہیں۔
حوثیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے کسی بھی حصے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں جیزان میں سعودی آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
ایسی صورت حال میں سعودی عرب کے پاس ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وہ یمن کی ناکہ بندی اور حوثیوں کے خلاف 11 سالہ جنگ کا مکمل خاتمہ کر دے، جس سے ایران کے ساتھ بھی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









