یمن کی جنگ کا فیصلہ کن معرکہ، مارب اور تعز پر کنٹرول کی جنگ تیز

یمن میں حکومت مخالف حوثی ملیشیا کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سرکاری فورسز کے حملے جاری ہیں، جبکہ مارب اور تعز کی جنگ یمن کے تنازع میں فیصلہ کن موڑ بن چکی ہے۔
یمن میں سرکاری فورسز نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی حالیہ پیش قدمی کو روکنے کے لیے فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
پچھلے ایک ہفتے کے دوران حوثیوں نے حکومتی کنٹرول والے علاقوں میں کافی پیش قدمی کی ہے، جس کے بعد اب لڑائی کا رخ شمال میں حکومت کے آخری مضبوط گڑھ اور تیل و گیس کے بڑے مرکز مارب کی طرف مڑ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی مارب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یمن بحران سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، آبنائے ہرمز پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں، اسماعیل بقائی
دوسری جانب ساحلی علاقے مغربی تعز میں بھی گھمسان کی جنگ جاری ہے، جہاں سعودی عرب کے تعاون سے یمنی فوج نے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔
اس تمام کشمکش اور لڑائی کے نتیجے میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ مہاجرین کی عالمی تنظیم کے مطابق ستمبر کے آغاز سے اب تک 85 ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد جبوتی کے ساحلوں پر پناہ لے چکے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مارب اور تعز جغرافیائی اور معاشی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ مارب جہاں ملک کا سب سے بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ رکھتا ہے، وہیں تعز حوثیوں کے زیرِ قبضہ شمال اور حکومت کے زیرِ کنٹرول جنوب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے، جو بحیرہ احمر کی سمندری ٹریفک کو بھی براہ راست متاثر کرتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










