برطانیہ نے پناہ گزین اسکیم دوبارہ شروع کردی

برطانیہ نے جنگ اور ظلم و ستم سے متاثرہ پناہ گزینوں کے لیے محفوظ اور قانونی راستہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔
برطانوی حکومت نے UK Resettlement Scheme (UKRS) کو نئے ریفرلز کے لیے دوبارہ فعال کردیا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے ضرورت مند پناہ گزینوں کو قانونی طریقے سے برطانیہ منتقل کیا جائے گا۔
برطانوی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ اسکیم کا مقصد ایسے افراد کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے جو جنگ یا ظلم و ستم کے باعث اپنے ملک میں خطرے سے دوچار ہیں۔ نئے ریفرلز فوری طور پر شروع کیے گئے ہیں، جبکہ پہلے پناہ گزینوں کی برطانیہ آمد سال کے اختتام سے پہلے متوقع ہے۔
حکومت نے بتایا ہے کہ تقریباً ہر چار میں سے ایک ریفرل افغان خواتین اور لڑکیوں جبکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے متوقع ہے۔ ان افراد کی نشاندہی اور ریفرل کے عمل میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین UNHCR اور International Refugee Assistance Project (IRAP) کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت کے مطابق نئے پروگرام کو مقامی حکام کے تعاون سے آگے بڑھایا جائے گا۔ اس کے تحت آنے والے پناہ گزینوں کی آبادکاری اور انہیں مقامی معاشرے میں شامل کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر مدد فراہم کی جائے گی۔
یہ اسکیم برطانیہ کے ان اقدامات کا حصہ ہے جن کے ذریعے حکومت پناہ گزینوں کے لیے محفوظ اور قانونی راستے بڑھانا چاہتی ہے۔ حکومت نے پہلے بھی کمیونٹی، تعلیمی اداروں اور کاروباری اداروں کے ذریعے پناہ گزینوں کی میزبانی کے لیے نئے راستوں کا اعلان کیا تھا۔ ان میں کمیونٹی اسپانسرشپ، طالب علم اسپانسرشپ اور ورک اسپانسرشپ شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ان تمام قانونی راستوں کے ذریعے برطانیہ آنے والے افراد کی تعداد سیکڑوں میں ہوگی۔ بعد میں یہ تعداد بڑھ کر سالانہ چند ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے ہر سال ایک حد مقرر کی جائے گی۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان محفوظ راستوں کو ملک کی مجموعی امیگریشن پالیسی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس کا ایک مقصد پناہ کے خواہش مند افراد کے لیے قانونی راستہ فراہم کرنا بھی ہے تاکہ وہ خطرناک اور غیر قانونی طریقوں سے برطانیہ پہنچنے کی کوشش نہ کریں۔
یہ اعلان انگلش چینل کے ذریعے چھوٹی کشتیوں میں برطانیہ پہنچنے کی کوششوں کے معاملے کے دوران سامنے آیا ہے۔ برطانوی حکومت ایک طرف محفوظ اور قانونی راستوں کو بڑھانے پر زور دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف غیر قانونی آمد کو روکنے کے لیے اقدامات بھی جاری ہیں۔
نئے پروگرام کے تحت برطانیہ آنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش تک پہنچنے کا پانچ سالہ راستہ بھی رکھا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس نظام کا مقصد قانونی طریقے سے آنے والے پناہ گزینوں کو واضح اور منظم طریقہ فراہم کرنا ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ منصوبہ ملک میں پناہ گزینوں کی آبادکاری کے پہلے سے موجود نظام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ اس میں جنگ، تنازعات اور ظلم و ستم سے متاثرہ افراد کو محفوظ ماحول فراہم کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
یوں UK Resettlement Scheme کے دوبارہ کھلنے سے دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود ان پناہ گزینوں کے لیے برطانیہ منتقل ہونے کا ایک قانونی راستہ دوبارہ دستیاب ہوگیا ہے جو اس پروگرام کے مقررہ ریفرل اور اہلیت کے عمل میں شامل کیے جاتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












