اسمارٹ فونز کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے سے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

بچوں کا موبائل فون، ٹی وی اور دیگر اسکرینز کے سامنے زیادہ وقت گزارنا ان کی نشوونما کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
ایک بڑی عالمی تحقیق میں زیادہ اسکرین ٹائم اور بچوں کی تعلیمی کارکردگی، زبان سیکھنے اور ذہنی صحت کے مسائل کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ یہ تحقیق 64 ممالک سے تعلق رکھنے والے 28 لاکھ سے زیادہ بچوں کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔
تحقیق میں مختلف اقسام کے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں اسمارٹ فونز، ٹیلی ویژن، گیمنگ، سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ سمیت مختلف سرگرمیاں شامل تھیں۔ محققین نے بچوں کی تعلیمی اور ذہنی صحت سے متعلق مختلف نتائج کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں کمی سے منسلک پایا گیا۔ زبان سیکھنے کے حوالے سے بھی مشکلات کا تعلق زیادہ اسکرین استعمال سے دیکھا گیا۔ تاہم محققین کے نتائج کو اس طرح نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ ہر بچے میں زیادہ اسکرین ٹائم لازماً یہی مسائل پیدا کرے گا۔ تحقیق بنیادی طور پر مختلف عوامل کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
بچوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے بھی اہم نتائج سامنے آئے۔ زیادہ ڈیجیٹل میڈیا استعمال کے ساتھ جذباتی اور رویوں سے متعلق مشکلات کا تعلق دیکھا گیا۔ بعض مطالعات میں زیادہ اسکرین استعمال کے ساتھ بے چینی اور ڈپریشن کی علامات بھی زیادہ دیکھی گئی ہیں۔
محققین کے مطابق اسکرین کے استعمال کا اثر صرف اس بات سے نہیں سمجھا جاسکتا کہ بچہ روزانہ کتنے گھنٹے موبائل یا ٹی وی دیکھتا ہے۔ اس بات کی بھی اہمیت ہے کہ وہ اس وقت کیا سرگرمی کررہا ہے۔ گیمنگ، سوشل میڈیا، ویڈیوز دیکھنے اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیوں کے اثرات ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔
بچوں کی زبان سیکھنے کے حوالے سے بھی ماہرین نے اسکرین ٹائم پر توجہ دلائی ہے۔ جاما پیڈیاٹرکس میں شائع ایک جائزے کے مطابق زیادہ اسکرین استعمال بچوں اور بڑوں کے درمیان گفتگو کے مواقع کم کرسکتا ہے۔ خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے بات چیت اور زبان سے بھرپور ماحول سیکھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسی طرح سنگاپور میں ہونے والی ایک الگ تحقیق میں 502 بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ بچوں کے اسکرین استعمال کو کم عمری سے لے کر 8 سال تک مختلف مراحل میں دیکھا گیا۔ بعد میں 9 سال کی عمر میں ان کی تعلیمی کارکردگی اور ساڑھے 10 سال کی عمر میں ورکنگ میموری کا جائزہ لیا گیا۔
اس تحقیق میں زیادہ اسکرین ٹائم اور بعد کی تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق دیکھا گیا۔ بعض عمر کے مراحل، خاص طور پر کم عمری اور تقریباً 6 سال کی عمر کے دوران زیادہ اسکرین استعمال کے ساتھ تعلیمی کارکردگی اور ورکنگ میموری کے کم اسکور کا تعلق برقرار رہا۔
محققین کا کہنا ہے کہ بچوں کی ابتدائی عمر میں اسکرین کے استعمال کو محدود رکھنا اہم ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موبائل یا ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کو کھیلنے، کتاب پڑھنے، والدین سے گفتگو کرنے اور اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھنے کے لیے کم وقت مل سکتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بچوں کے لیے صرف اسکرین کا وقت کم کرنا ہی کافی نہیں۔ والدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بچے اسکرین پر کیا دیکھ رہے ہیں اور کس مقصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ تعلیمی اور عمر کے مطابق مواد کا استعمال عام تفریحی یا غیر ضروری استعمال سے مختلف ہوسکتا ہے۔
حالیہ تحقیقات سے مجموعی طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ بچوں کی زندگی میں ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال کو متوازن رکھنا اہم ہے۔ اسکرین ٹائم کو کھیل، مطالعے، نیند، جسمانی سرگرمی اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے ساتھ متوازن رکھنا بچوں کی مجموعی نشوونما کے لیے زیادہ مناسب ماحول فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم اسکرین ٹائم اور بچوں کی نشوونما کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید طویل مدتی تحقیق بھی ضروری ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











