سندھ بار کونسل کا گورنر سندھ کی برطرفی کا مطالبہ

کراچی : سندھ بار کونسل نے گورنر سندھ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر سندھ آئینی منصب پر فائز ہونے کے باوجود سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور گورنر ہاؤس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو آئینی تقاضوں اور منصب کی غیر جانبداری کے اصولوں کے منافی ہے۔
سندھ بار کونسل نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے گورنر سندھ کو عہدے سے ہٹائیں تاکہ آئینی منصب کی حرمت اور غیر جانبداری برقرار رکھی جا سکے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گورنر کا عہدہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صوبے کے تمام شہریوں کی نمائندگی کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے اس منصب کو کسی بھی قسم کی جماعتی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
اعلامیے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ پاور شیئرنگ کے معاملے پر اپنی واضح پارٹی پوزیشن سامنے لائے۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ کی تقسیم کی ہر کوشش کی مزاحمت کریں گے : شیری رحمان
بار کونسل کے مطابق یہ ضروری ہے کہ عوام کو معلوم ہو کہ صوبے کی نمائندہ جماعت وفاق میں کس حد تک اور کن شرائط پر شراکت اقتدار کا حصہ ہے۔
سندھ بار کونسل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور مؤقف کی وضاحت کرے جو سندھ کی تقسیم یا انتظامی بنیادوں پر کسی نئی حد بندی کی حمایت کر رہی ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ کے اتحاد اور سالمیت پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں کیا جائے گا اور صوبے کی جغرافیائی و انتظامی وحدت ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔
بار کونسل کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو پارٹی سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد مجروح نہ ہو۔
وکلا برادری کے مطابق اگر آئینی منصب کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا تو اس سے نہ صرف صوبائی ہم آہنگی متاثر ہوگی بلکہ آئینی روایات بھی کمزور ہوں گی۔
سندھ بار کونسل نے واضح کیا کہ وہ صوبے کے مفادات، اتحاد اور آئینی بالادستی کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











