انتہا پسند افغان طالبان، میڈیا اور خواتین کے حقوق سلب کرنے کیلئے ہر حد پار کر گئے

جنگی محاذ کے بعد افغان طالبان کو سوشل میڈیا پر بھی رسوائی کا سامنا، جھوٹا پراپیگنڈا بے نقاب
کابل: افغان طالبان رجیم نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد اب ان کے میڈیا سے رابطے بھی ختم کر دیے ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق طالبان نے لڑکیوں کی کالز آنے پر مقامی ریڈیو اسٹیشن کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق، ریڈیو اسٹیشن تعلیم سے محروم لڑکیوں کے لیے تعلیمی پروگرام نشر کرتا تھا، تاہم طالبان کے حکم کے بعد اسٹیشن بند کر دیا گیا۔ افغان جرنلسٹس سینٹر نے اس اقدام کو آزاد میڈیا کے خلاف کاری ضرب قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان سچ کی آواز سے خوفزدہ ہیں۔ خواتین کی تعلیم اور میڈیا تک رسائی پر پابندیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
افغان طالبان رجیم اپنی آمرانہ حکمرانی کو طول دینے کے لیے انتہا پسندانہ اقدامات اور پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ مقامی ریڈیو اسٹیشن کی بندش ایک واضح مثال ہے کہ طالبان نہ صرف تعلیم بلکہ خواتین کی معاشرتی اور سماجی آزادی پر بھی مکمل کنٹرول چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ طالبان کی یہ پابندیاں نہ صرف افغان معاشرے میں خواتین کے حقوق کو خطرے میں ڈال رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کا باعث بن رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












