خلیجی بحران نے بھارت کی سفارتی پوزیشن بے نقاب کر دی

عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی پوزیشن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں ماہرین نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عالمی جریدے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سفارتی پالیسیوں نے خلیجی بحران کے دوران بھارت کی کمزور پوزیشن کو بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی عالمی دوستیاں زیادہ تر دعوؤں تک محدود رہیں اور عملی طور پر بھارت عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی بحران کے دوران روسی تیل کی خریداری کیلئے امریکی اجازت طلب کرنا اور ایران سے مدد مانگنا مودی حکومت کی کمزور حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال نے بھارت کی سیاسی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت اقلیتوں کیلئے خطرناک ترین ملک قرار، امریکی کمیشن کا آر ایس ایس اور را پر پابندی کا مطالبہ
بھارتی عوام نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں اور بحران کے دوران کمزور سفارتی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتیوں میں سے ہزاروں کی واپسی کے باعث معیشت پر منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بڑھتی قربت کے بعد بھارت ایران کیلئے ایک غیر قابل اعتماد شراکت دار بن گیا ہے۔ مجموعی طور پر مودی حکومت کی پالیسیاں عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












