میٹا اور یوٹیوب نوجوانوں کی ذہنی صحت تباہ کرنے کے ذمہ دار قرار، لاکھوں ڈالر جرمانہ

امریکہ کی ایک عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں سوشل میڈیا کمپنیوں ‘میٹا’ اور ‘یوٹیوب’ کو نوجوان صارفین کو پلیٹ فارم کا عادی بنانے اور ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔
نیویارک اور کیلیفورنیا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک جیوری نے فیس بک کی مالک کمپنی میٹا اور یوٹیوب کے خلاف ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ کمپنیاں جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز کو اس طرح ڈیزائن کرتی ہیں کہ نوجوان ان کے عادی ہو جائیں۔
جیوری نے پایا کہ میٹا اور یوٹیوب اپنے ڈیزائن کے خطرناک ہونے سے واقف تھے، لیکن انہوں نے صارفین کو ان خطرات سے آگاہ نہیں کیا، جس کے نتیجے میں مدعیہ کی ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ مقدمہ کیلی نامی ایک بیس سالہ خاتون اور اس کی والدہ نے دائر کیا تھا، جنہوں نے الزام لگایا کہ بچپن میں ان ایپس کے بے جا استعمال کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ، اپنے جسم کے بارے میں منفی خیالات اور خودکشی کے رجحانات کا شکار ہوئیں۔
اس تاریخی فیصلے میں عدالت نے میٹا اور یوٹیوب کو مجموعی طور پر تیس لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ یوٹیوب کو نو لاکھ ڈالر اور میٹا کو اکیس لاکھ ڈالر اضافی تادیبی جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت عالمی سائبر فراڈ مافیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا، میٹا کی رپورٹ نے بھارتی دعوؤں کی پول کھول دی
جیوری کے مطابق کیلی کو پہنچنے والے نقصان میں ستر فیصد ذمہ داری میٹا پر جبکہ تیس فیصد یوٹیوب پر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک نے مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی عدالت سے باہر تصفیہ کر لیا تھا، لیکن میٹا اور یوٹیوب نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میٹا کا مؤقف ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جسے کسی ایک ایپ سے نہیں جوڑا جا سکتا، جبکہ گوگل (یوٹیوب) کا کہنا ہے کہ یوٹیوب ایک ذمہ دارانہ اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہے نہ کہ صرف ایک سوشل میڈیا سائٹ۔
یہ فیصلہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت امریکہ بھر میں اسی نوعیت کے پندرہ سو سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایک ایسی نظیر قائم ہو گئی ہے، جو مستقبل میں ان کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے نقصان اور اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
والدین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے سوشل میڈیا کمپنیوں کے احتساب کی جانب ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ کمپنیاں منافع کے بجائے بچوں کی حفاظت کو ترجیح دیں۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












