جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

نئی موبائل سم خریدنے والے خبردار!!! پی ٹی اے نے بڑا اعلان کردیا

20 مئی, 2026 09:38

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر قانونی سموں کی فروخت روکنے اور ٹیلی کام نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام موبائل فون کمپنیوں، فرنچائزز اور ریٹیلرز کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک سم فروخت نہ کریں۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی غیر رجسٹرڈ سموں کی روک تھام کرنا ہے۔

حکام کے مطابق بعض عناصر رات کے اوقات میں جعلی یا غیر قانونی طریقے سے سمیں فروخت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سیکیورٹی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی خطرے کو کم کرنے کے لیے اب سموں کی فروخت کے اوقات محدود کیے گئے ہیں تاکہ ہر خریداری کی مکمل نگرانی کی جا سکے۔

پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ متعلقہ ٹیلی کام قوانین کے تحت جرمانے، لائسنس معطلی اور دیگر قانونی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

عوام کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صرف مجاز فرنچائز یا مستند سیلز پوائنٹس سے ہی سم خریدیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کو مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی سم کا غلط استعمال روکا جا سکے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ شہری اگر کسی دکان یا فرنچائز کو مقررہ اوقات کے دوران سم فروخت کرتے دیکھیں تو فوری طور پر شکایت درج کروائیں۔ اس مقصد کے لیے پی ٹی اے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم، پی ٹی اے سی ایم ایس ایپ، واٹس ایپ ہیلپ لائن اور ٹول فری نمبر بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ اس سے جعلی شناخت پر سموں کے اجرا میں کمی آئے گی جبکہ صارفین کا ڈیٹا بھی زیادہ محفوظ رہے گا۔

ٹیلی کام ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو استعمال کے لیے نہ دیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رجسٹرڈ سموں کی تفصیلات بھی چیک کرتے رہیں تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے محفوظ رہا جا سکے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔