چینی سائنسدان حرکت کرتے اہداف کو بغیر تار کے بجلی فراہم کرنے میں کامیاب

چین نے خلائی شمسی توانائی اور بغیر تار کے بجلی منتقل کرنے کے اپنے سب سے بڑے منصوبے ژوری میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے زمین پر بیک وقت کئی متحرک اہداف کو بجلی فراہم کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
چین نے جدید انسانی تاریخ کے سب سے پرعزم اور دوررس توانائی کے منصوبے میں ایک بہت بڑا اور تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس سے سائنسی دنیا حیران رہ گئی ہے۔
چین کے خلائی شمسی توانائی کے اسٹیشن اور مائیکرو ویو کے ذریعے بغیر تار کے بجلی کی ترسیل کے مخصوص منصوبے، جسے ژوری (سورج کا تعاقب کرنا) کا نام دیا گیا ہے، نے نئے اور اہم سائنسی بریک تھرو حاصل کر لیے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت چینی سائنسدانوں نے زمین پر مبنی ایک ایسا جدید ترین تصدیقی نظام مکمل طور پر خود تیار کر لیا ہے، جو بغیر کسی تار کے، مائیکرو ویو لہروں کے ذریعے ایک ہی وقت میں کئی متحرک اور حرکت کرتے ہوئے اہداف کو بجلی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کامیابی کے بعد یہ جدید ترین ٹیکنالوجی اب نظریاتی مرحلے سے نکل کر عملی انجینئرنگ اور حقیقی دنیا میں استعمال کے بہت زیادہ قریب پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ پر چین کی برتری اب ایک واضح حقیقت بن چکی ہے، کٹر امریکی ناقد کا اعتراف
چین کے ممتاز اکیڈمیشن دوان باویان نے اس سائنسی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کا اصل مقصد زمین کے مدار میں ایک خلائی وائرلیس چارجنگ ہب یا مرکز قائم کرنا ہے۔
اس نظام کے فعال ہونے کے بعد خلا میں موجود دیگر سیٹلائٹس اور مصنوعی سیاروں کو صرف اپنے سولر پینلز پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ مدار میں موجود اس مرکزی اسٹیشن سے مائیکرو ویو لہروں کے ذریعے بجلی حاصل کر سکیں گے، جو کہ خلا میں ایک وائرلیس چارجنگ اسٹیشن کی طرح کام کرے گا۔
اس منصوبے میں اب تک جو بڑی کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہیں، ان میں زمین پر بیک وقت متعدد متحرک اہداف کو بجلی بھیجنے کا کامیاب نظام، سورج کی توانائی کو ایک مرکز پر اکٹھا کرنے اور اسے بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت میں ریکارڈ اضافہ شامل ہے۔
اس کے ساتھ ہی سائنسدانوں نے انتہائی ہلکے، چھوٹے اور مربوط انٹینا تیار کر لیے ہیں، جو خلا میں بھیجے جانے کے لیے بالکل تیار ہیں، جبکہ ایک نیا اور جدید تقسیم شدہ ڈیزائن بھی بنایا گیا ہے، جو اس پورے سسٹم کی پائیداری اور کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بناتا ہے۔
یہ پیشرفت چین کے سنہ 2022 کے اس سنگ میل کے بعد سامنے آئی ہے، جب چینی ٹیم نے خلائی شمسی پاور اسٹیشن کے لیے دنیا کا پہلا مکمل لنک گراؤنڈ تصدیقی نظام بنایا تھا۔
اگرچہ خلا میں اس پورے اسٹیشن کا باقاعدہ فعال ہونا مستقبل کا ہدف ہے، لیکن یہ حالیہ کامیابیاں اس ٹیکنالوجی کی عملی میدان میں آمد کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












