ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں چینی زبان انگریزی سے آگے نکلنے لگی، جدید تحقیق

مصنوعی ذہانت کے ذریعے جدید ترین ہوائی جہازوں کے ڈیزائن تیار کرنے اور انجینئرنگ کے پیچیدہ تصورات کو سمجھنے میں چینی زبان انگریزی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت اور جدید انجینئرنگ کی دنیا سے ایک انتہائی حیران کن اور انقلابی تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ہوائی جہازوں کی ڈیزائننگ کے لیے مصنوعی ذہانت کے نظام کو ہدایات دینے میں چینی زبان نے انگریزی زبان کے مقابلے میں واضح اور فطری برتری حاصل کر لی ہے۔
اگرچہ یہ برتری ابھی بہت زیادہ بڑی نہیں ہے، لیکن یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی جاری عالمی دوڑ میں اب چینی زبان انگریزی کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بیجنگ کی مشہور تسنگہوا یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کے ابتدائی نتائج اگرچہ ملے جلے ہیں، لیکن مستقبل کی سمت بالکل واضح نظر آ رہی ہے۔
محققین نے اس تجربے کے لیے ایک انتہائی جدید مصنوعی ذہانت کا ایجنٹ تیار کیا تھا، جسے ایک کلاسک انجینئرنگ ٹاسک دیا گیا تھا، جس کا مقصد ہوائی جہاز کے پروں کی شکل تبدیل کر کے ہوا کی مزاحمت کو کم سے کم کرنا تھا۔
تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل کو بہتر بنانے سے پہلے جب چینی زبان میں ہدایات دی گئیں تو اس نے انگریزی ہدایات کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : انڈونیشیا، چین اور امریکہ کے درمیان عالمی اثر و رسوخ کا بڑا میدانِ جنگ بن گیا
اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی زبان کے الفاظ اور حروف بہت گہرے اور جامع ہوتے ہیں جو انجینئرنگ کے انتہائی پیچیدہ تصورات جیسے کہ ہوا کے دباؤ کی لہروں اور پروں کی اوپری سطح کے کھینچاؤ کے باہمی تعلق کو بہت کم الفاظ اور براہ راست انداز میں کمپیوٹر کو سمجھا سکتے ہیں۔
تاہم جب دونوں زبانوں کے ماڈلز کو گہری تربیت اور مینوئل لرننگ کے عمل سے گزارا گیا تو دونوں کی کارکردگی بالکل ایک جیسی ہو گئی اور دونوں نے ہوا کی مزاحمت کم کرنے کا بہترین ہدف حاصل کر لیا۔
تحقیق کے مطابق انگریزی اب بھی دنیا کے بڑے اور جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بنیادی زبان ہے اور دنیا کا سائنسی لٹریچر بھی اسی میں ہے، جس کی وجہ سے اس کی معلومات کا دائرہ وسیع ہے، لیکن چینی زبان انجینئرنگ کے ماحول، مقامی ماڈلز اور تکنیکی خصوصیات کے ساتھ زیادہ تیزی سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
چین کے پاس اس وقت دنیا میں سائنسدانوں اور انجینئرز کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے، جہاں ہر سال امریکہ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ انجینئرنگ کے طلبہ گریجویٹ ہوتے ہیں اور وہ پہلے ہی اپنی مادری زبان میں ان ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب آنے والا ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












