سندھ میں کچے کی زمینیں بیواؤں اور ضرورت مند خواتین کو الاٹ کرنے کا فیصلہ

وزیر داخلہ سندھ نے کچے کے علاقے میں پولیس آپریشن، امن و امان کی صورتحال اور زمینوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے اہم پیش رفت سے میڈیا کو آگاہ کیا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کراچی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ پولیس نے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں اور شرپسند عناصر کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن کی تفصیلات سے میڈیا کو وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جاتا رہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام اضلاع میں جاری آپریشنز کے دوران اب تک 393 افراد نے قانون کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ تھی کہ طاقت کے استعمال سے پہلے جرائم پیشہ افراد کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا جائے، تاہم ہتھیار نہ ڈالنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں کہیں بھی کوئی جرم سرزد ہوتا ہے، پولیس اس کے خلاف فوری ایکشن لیتی ہے۔
ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ مختلف برادریوں کے سردار اور مقامی بااثر افراد قبائلی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ کچے کے علاقے میں اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اوباوڑو سے ٹھٹہ تک کچے کے پورے علاقے کا سروے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ زمینوں کے درست حقائق سامنے آ سکیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کچے کے باسیوں بالخصوص بیوہ اور ضرورت مند خواتین کو کچے کی زمینیں الاٹ کی جائیں تاکہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ کے مزارات اور مذہبی مقامات کیلئے کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
انہوں نے واضح کیا کہ سابقہ حکومتوں میں کچے کی زمینیں منظور نظر افراد کو دی گئیں، لیکن اب پہلے سروے ہوگا اور پھر شفاف طریقے سے الاٹمنٹ کی جائے گی، جبکہ محکمہ جنگلات کی زمینیں اسی محکمہ کے حوالے کی جائیں گی۔
ام رباب چانڈیو کیس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ سیشن کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے، جسے تسلیم کرنا ہوگا، تاہم یہ تاثر ختم کرنا ضروری ہے کہ سزا ہوتی تو اچھا ہوتا اور بری ہوئے تو برا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری کوشش کی کہ اس دوران کسی بھی فریق کو نقصان نہ پہنچے اور تمام فریقین کو فیئر ٹرائل کا پورا موقع دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی احاطے میں فائرنگ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
اسلحے کی اسمگلنگ پر بات کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ ملٹری گریڈ اسلحے کی فراہمی سے متعلق وفاقی اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
سندھ پولیس نے حال ہی میں پنجاب میں واقع اسلحہ کے ایک بڑے ڈپو کو تباہ کیا ہے، جس کے بعد پچھلے دو چار ماہ کے دوران صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کا کام اپنی رٹ برقرار رکھنا ہے اور کرمنل جسٹس سسٹم میں جو پیرامیٹرز موجود ہیں، ان پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










