امریکہ وہ سب مانگ رہا ہے، جو وہ جنگ سے حاصل نہ کر سکا، ایرانی مذاکراتی وفد

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے ایرانی ذرائع بتایا کہ امریکہ مذاکراتی میز پر وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے پاک امریکہ اور ایران مذاکرات کے پس پردہ حقائق منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایرانی وفد کے قریبی ذرائع اور معروف ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے بتایا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ امریکہ کا وہ غیر حقیقت پسندانہ ایجنڈا تھا، جس کے ذریعے واشنگٹن ان تمام اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو وہ دہائیوں کی کشمکش اور جنگی حالات میں بھی حاصل نہیں کر سکا تھا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی وفد نے مذاکراتی میز پر انتہائی سخت اور غیر منصفانہ مطالبات رکھے، جنہیں ایران کی خود مختاری پر سمجھوتہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، امریکی نائب صدر بغیر معاہدے امریکہ روانہ
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں موجود ایرانی نمائندوں نے امریکی حکام کے ان توسیع پسندانہ مطالبات کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جن کا تعلق براہ راست ایران کے دفاعی اور اسٹریٹجک مفادات سے تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے خاص طور پر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایسی شرائط پیش کیں، جو ایران کے لیے ناقابل قبول تھیں۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود اور بین الاقوامی گزرگاہوں پر اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہو گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔
مزید برآں، مذاکرات میں تعطل کی ایک بڑی وجہ ایران کا پرامن جوہری پروگرام بھی بنا ہے۔ فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفد نے ایران کی پرامن ایٹمی توانائی کے حصول کی کوششوں پر ایسی قدغنیں لگانے کی خواہش ظاہر کی، جو عالمی قوانین اور ایران کے بنیادی حق کے منافی تھیں۔
ایران نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سائنسی ترقی اور پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اس کے علاوہ کئی دیگر علاقائی اور دفاعی مسائل پر بھی امریکہ نے ایسی امبیشس یعنی بلند بانگ شرائط رکھی تھیں، جنہیں ایرانی وفد نے غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔
ایرانی ذرائع کا ماننا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لبادے میں ایران کو دفاعی طور پر کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، جسے تہران کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












