امریکہ کی چین، ہانگ کانگ اور یو اے ای کے بینکوں کو پابندیوں کی دھمکی

امریکی وزارت خزانہ نے چین، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات اور عمان کے مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ایران کے ساتھ مالی روابط برقرار رکھے تو انہیں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے چین، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات اور عمان کے بینکوں کو ایک مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران ان ممالک کے مالیاتی اداروں کو استعمال کرتے ہوئے عالمی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واشنگٹن نے اشارہ دیا ہے کہ ان خطوں میں کام کرنے والے بینکوں کو تعزیری اقدامات بشمول پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو امریکہ کی جانب سے تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے۔
مراسلے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایران فرضی کمپنیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے خاص طور پر ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں بینکنگ چینلز استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کینیڈا اور یورپی یونین کا اسحاق ڈار سے رابطہ، امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا اعتراف
امریکی وزارت خزانہ کا دعویٰ ہے کہ ان میکانزم کی بدولت ایران عالمی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جسے واشنگٹن غیر قانونی سرگرمی قرار دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران نے سال 2024 کے دوران فرضی کمپنیوں کے ذریعے امریکی بینکنگ چینلز سے کم از کم 9 ارب ڈالر کی رقم منتقل کی، جس کا بڑا مرکز ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات تھے۔
امریکی وزارت خزانہ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ تمام مالیاتی ادارے اس بات کو نوٹ کر لیں کہ امریکہ اپنے تمام دستیاب وسائل اور اختیارات استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
پابندیوں کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن ان غیر امریکی اداروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جو اس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی حمایت جاری رکھیں گے۔
اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی بینکوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ امریکی مفادات اور پابندیوں کے فریم ورک کے اندر رہ کر کام کریں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.







